(اےیوایس)
’میں نائٹ ہوں‘، پیرس کے ’آخری ہاکر‘ علی اکبر کے لیے فرانس کا اعلیٰ ایوارڈ
ان کا کہنا تھا کہ ’پیارے علی آواز لگا کر سیاسی خبروں کو ہمارے گھروں کی اوپری منزلوں تک پہنچانے کے لیے بہت شکریہ۔‘
انہوں نے اس موقع پر پیرس کے کچھ مشہور کیفوں کے نام لیتے ہوئے کہا کہ ان مقامات پر آنے والے لوگوں کے دلوں کو گرمانے پر بھی میرے سمیت سب آپ کے شگرگزار ہیں۔
ان ریستورانوں کے قریب علی اکبر کئی دہائیوں تک اخبار بیچتے رہے ہیں۔
صدر میکخواں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’آپ فرانس کے پریس کی آواز ہیں۔‘
اس موقع پر علی اکبر کے علاوہ ان کی فمیلی کے افراد ان کے ساتھ موجود تھے۔
صدر میکخواں نے خوبصورت لباس میں ملبوس چھریرے جسم کے مالک علی اکبر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فرنچ آپ کی زبان بن گئی ہے اور اپنے انداز میں اس مزید اجاگر کرنے کا فن بھی جانتے ہیں۔
’اگر میں ایسا کہوں تو بالکل درست ہو گا کہ آپ نے دنیا کو اپنی بانہوں اور فرانس کو اپنے دل میں بسا رکھا ہے۔‘
انہوں نے علی اکبر کو انضمام کی ایک ایسی مثال قرار دیا جو ملک کو مزید مضبوط اور قابلِ فخر بناتی ہے۔
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک ایسے وقت میں ایک شاندار مثال ہے جب ہمیں اکثر بری خبریں سننے کو ملتی ہیں۔‘
ان کے مطابق ’علی اکبر کی طرح اور بھی ایسے کئی لوگوں کی کہانیاں ہیں، جو غربت سے بھاگتے ہوئے ایک آزاد ملک کا انتخاب کرتے ہیں۔‘
اس موقع پر علی اکبر نے کہا کہ وہ صدر کی باتوں سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔
’میں ایک نائٹ ہوں، جسے میں نے خود بنایا ہے۔‘
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے علی اکبر غربت نے 70 کی دہائی کے وسط میں غربت سے تنگ آ کر فرانس کا رخ کیا تھا اور ایک ملاح کے طور پر کام کرنے کے علاوہ ریستورانوں میں ڈش واشر کے طور پر بھی کام کیا۔