تاہم اس فہرست میں یورپ کے فرانس، جرمنی اور برطانیہ عظمیٰ جیسے بڑے ممالک، ٹرمپ کی گرین لینڈ اور ٹیرف پالیسی کی وجہ سے شامل نہیں ہیں، اسی وجہ سے یورپ کے بڑے ممالک اور واشنگٹن کے تعلقات جمود کا شکار ہیں۔ بعد ازاں یوکرین نے یہ عذر پیش کیا کہ وہ روس اور بیلاروس کے ہوتے ہوئے کس طرح حصہ لے سکتا ہے۔ بیلاروس نے شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے، جبکہ روس کو اس بورڈ میں شامل نہیں کیا گیا ہے، تاہم صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ ماسکو سابق امریکی حکومت کی طرف منجمد کئے گئے روسی اثاثوں کو فروخت کر کے بورڈ میں شامل ہونے کی فیس ۱؍ بلین ڈالر ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔
ٹرمپ نے ورلڈ اکنامک فورم میں وزیر اعظم مارک کارنی کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کینیڈا کی دعوت کو مسترد کر دیا، جس میں انہوں نے بڑی طاقتوں کی طرف سے معاشی جبر کے خلاف خبردار کیا تھا۔ واضح ہو کہ ٹرمپ نے غزہ کیلئے اپنے وسیع تر منصوبے کے حصے کے طور پر بورڈ آف پیس کے قیام کا اعلان ۱۵؍ جنوری کو کیا تھا، جس کے تحت جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ اس بورڈ کو نومبر ۲۰۲۵ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۸۰۳؍ کے ذریعے اختیار دیا گیا تھا۔ اس بورڈ کا قیام خصوصی طور پر جنگ بندی اور غزہ کی تعمیر نو کیلئے عمل میں آیا تھا، مگر اب اسے کے منشور کو مزید وسیع کرکے دنیا بھر کے ممالک میں امن قائم کرنے کیلئے منظم کی گیا ہے، جہاں تنازعات اور جنگیں جاری ہیں۔ واضح ہو کہ اس تنظیم کی دیگر تفصیلات اور عہدیداران کا اعلان ابھی باقی ہے۔