ایران میں تباہ کن جنگ کی تیاریاں شروع ، میٹرو سٹیشن بنکرز میں تبدیل ، جوہری پلانٹ خالی کرے گاروس

(اےیوایس)

تہران: ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ تہران پر حملے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے پہلے اپنی بحری افواج کو تعینات کیا، پھر خامنہ ای پر ایٹمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ ٹرمپ نے ایران پر مزید خطرناک حملے کی دھمکی دی ہے۔ ایران نے بھی ٹریگر پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ ان حالات میں کسی بھی وقت امریکہ۔ ایران جنگ چھڑنے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں سناٹا پسرا ہوا ہے ۔

تہران کے میٹرو اسٹیشن بنیں گے جنگی بنکر

ایران اور روس سے آنے والی یہ دونوں رپورٹیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی وقت بڑا دھماکہ یا عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ ایران کے دارالحکومت تہران کے میئر علیرضا زکانی نے ایک خوفناک اعلان کیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے بڑھتے ہوئے خطرات کی روشنی میں، تہران کے میٹرو سٹیشنوں اور زیر زمین پارکنگ لاٹس کو ہنگامی جنگی پناہ گاہوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

ایران کو خدشہ ہے کہ امریکہ کسی بھی وقت اس کے فوجی اڈوں یا جوہری تنصیبات پر فضائی حملہ کر سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پہلے ہی ایک انتہائی محفوظ زیر زمین بنکر میں چلے گئے ہیں۔

ایران نے جوابی کارروائی کے لیے 1,000 نئے مہلک ڈرونز اپنی فوج کے حوالے کیے ہیں، جس سے کسی بھی حملے کا “کرارا ” جواب دیا جا سکتا ہے۔

روس چھوڑے گا نیوکلیئر پلانٹ

روس نے بھی بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ روسی اٹامک انرجی کارپوریشن (Rosatom) کے سربراہ الیکسی لکاچیف نے الجزیرہ کو بتایا کہ روس بوشہر جوہری پلانٹ سے اپنے ملازمین کو نکالنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباً 400 روسی ماہرین اور ان کے اہل خانہ وہاں موجود ہیں۔ روس نے آذربائیجان اور آرمینیا کے راستے انہیں نکالنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری معاہدے پر دستخط کرنے یا “اب تک کے سب سے تباہ کن حملے” کا سامنا کرنے کی وارننگ دے رکھی ہے ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *