’’محدود، جراحی یا حرکی حملہ؛ ہمارے لئے سب جنگ ہے‘‘
غیر معمولی طور پر سخت لہجے میں ایرانی عہدیدار نے کہا کہ تہران کسی بھی امریکی حملے کی ’’وسعت یا نوعیت‘‘ کے درمیان کوئی فرق نہیں کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کے کسی بھی قسم کے حملہ کا ایران کی جانب سے بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس بار ہم کسی بھی حملے کو چاہے وہ محدود ہو، لامحدود ہو، سرجیکل ہو یا کائنیٹک، وہ اسے جو بھی نام دیں، اپنے خلاف ایک ہمہ گیر جنگ کے طور پر دیکھیں گے۔ اور ہم اس کا حساب چکانے کیلئے سخت ترین ممکنہ طریقے سے جواب دیں گے۔‘‘
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک دن قبل کہا تھا کہ امریکہ کا ایک ’’بحری بیڑا‘‘ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ انہیں اسے استعمال نہیں کرنا پڑے گا۔ رپورٹس کے مطابق، طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، ڈیسٹرائرز اور لڑاکا طیاروں سمیت امریکی جنگی جہاز گزشتہ ہفتے ایشیا پیسیفک سے اپنی پوزیشن تبدیل کرنا شروع کرچکے ہیں۔ حکام نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اضافی فضائی دفاعی نظام تعینات کر سکتا ہے۔
انسانی حقوق کونسل میں تہران کے خلاف قرارداد؛ ہندوستان نے مخالفت کی
اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (یو این ایچ آر سی) کے حالیہ اجلاس میں، حکومت مخالف مظاہروں سے نمٹنے کے طریقہ کار پر ایران ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آیا۔ جمعہ کے دن، کونسل میں ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں ایران کے ’’پرتشدد کریک ڈاؤن‘‘ کی مذمت کی گئی اور تہران سے ’’بے رحمانہ جبر‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ۴۷ رکنی کونسل کے ۲۵ ممبران نے اس قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا جبکہ ہندوستان اور چین سمیت ۷ ممالک نے اس کی مخالفت کی۔ ۱۴ ممبران نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ قرارداد میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور من مانی گرفتاریوں کو روکے۔ اسی کے ساتھ کونسل نے جوابدہی کیلئے شواہد جمع کرنے کیلئے اقوامِ متحدہ کے آزاد تفتیش کاروں کے اختیارات میں مزید دو سال کی توسیع کر دی ہے۔
کشیدگی کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کیلئے سیکڑوں پروازیں معطل
مشرق وسطیٰ میں وسیع تر بحران کے خطرے کے پیشِ نظر، کئی ایئر لائنز نے خطے میں اپنے آپریشنز محدود کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ ’ایئر فرانس‘ نے ’’جیو پولیٹیکل صورتحال‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے دبئی کیلئے پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا۔ ’کے ایل ایم‘ نے بھی تل ابیب، دبئی، دمام اور ریاض سمیت متعدد علاقائی مقامات کیلئے پروازیں معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایران، عراق اور اسرائیل کی فضائی حدود سے گریز کرے گی۔ اس سے پہلے جرمنی کی ’لوفتھانزا‘ ایئرلائنز نے ۲۹ مارچ تک تہران کیلئے تمام پروازوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران کی میزائل پوزیشن پر توجہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی ایران کا انحصار زیادہ تر اپنی میزائل ڈیٹرنس پر رہے گا۔ اطلاعات کے مطابق تہران اپنے میزائل پروگرام کی تعمیرِ نو میں مصروف ہے اور چین سے امونیم پرکلوریٹ اور دیگر کیمیائی اجزاء درآمد کر رہا ہے، جنہیں بیلسٹک میزائلوں کیلئے ٹھوس ایندھن تیار کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران چین کے ایچ کیو-۹بی فضائی دفاعی نظام کو خریدنے پر غور کر رہا ہے۔