ریسکیو حکام نے بتایا کہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے کئی گھنٹے تک سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رہا۔ شدید زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تاکہ زخمیوں کو بروقت علاج فراہم کیا جا سکے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پورے علاقے کو سیل کر دیا اور شواہد اکٹھا کرنے کے ساتھ باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع کا معائنہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حملے میں کس نوعیت کا دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ سیکوریٹی ادارے اس بات کی بھی جانچ کر رہے ہیں کہ حملہ آور کو اندر داخل ہونے میں کس طرح کامیابی ملی۔
صوبائی اور وفاقی قیادت نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ذمہ داروں کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔ حکام کے مطابق، شادی کی تقریب جیسے عوامی اجتماع کو نشانہ بنانا ایک بزدلانہ کارروائی ہے اور اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔سیکوریٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں عوامی اجتماعات اب بھی شدت پسندوں کے لیے نرم ہدف سمجھے جاتے ہیں، جس کے باعث شادیوں، میلوں اور مذہبی تقریبات کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔