دریں اثنء اسموٹریچ کا کہنا ہے کہ ، ’’ہمیں اسے (ٹرمپ) یہ سمجھانا چاہیے کہ اس کا پلان اسرائیل کی ریاست کے لیے برا ہے اور اسے منسوخ کرنا چاہیے۔ بعد ازاں اسموٹریچ نے مصر اور برطانیہ کو نشانہ بناتے ہوئے جنوبی اسرائیلی آبادی کریات گٹ میں واقع سویلین-فوجی ہم آہنگی کے مرکز کو بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے جو ٹرمپ کے پلان کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے۔خبروں کے مطابق، اسموٹریچ نے ’’کمانڈ سینٹر‘‘ سے مصر اور برطانیہ، کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ یہ مرکز اکتوبر میں امریکی سنٹرل کمانڈ نے قائم کیا تھا اور اس میں درجنوں ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے شامل ہیں۔
مزید یہ کہ اسموٹریچ نے رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کا بھی مطالبہ کیا، جس پر اسرائیل کا کنٹرول ہے، اور غزہ کے فلسطینیوں کو کہیں اور جانے اور مستقبل تلاش کرنے کا شرانگیز مطالبہ کیا۔ یہ یاد رہے کہ اسموٹریچ ، نیتن یاہو حکومت کا اتحادی ہے، اور نتین یاہو پر فلسطینیوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کرتا رہتا ہے، اس سے قبل بھی وہ تمام فلسطینوں کو قتل کرنے کی بھی وکالت کرچکا ہے، وہ ٹرمپ نے غزہ امن منصوبے کا سخت مخالف ہے، اور امن معاہدے کے بیشتر شرائط کو ماننے سے انکار کرچکا ہے۔