رافیل کے ساتھ پانچویں نسل کا یہ خطرناک جنگی جہاز خریدے گا ہندوستان؟ اس ماہ ہونے جا رہا ہے فیصلہ، سن کر ہی کانپ جائیں گے عاصم منیر!

(اےیوایس)

5th Gen Fighter Jet Su-57 News Update: فائٹر جیٹس کی کمی سے دوچار ہندوستانی فضائیہ کو مضبوط بنانے کے لیے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان سرکار نے اپنی تجوری کھول دی ہے۔ فرانس کی ڈسالٹ ایوی ایشن سے 114 رافیل طیارے خریدنے سے متعلق ایئر فورس کی تجویز پر جلد ہی حکومت کی منظوری ملنے والی ہے۔ اسی دوران یہ رپورٹ سامنے آئی ہے کہ ہندوستان میں روسی پانچویں نسل کے فائٹر جیٹس سخوئی-57 کی لاگت پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا ہندوستان رافیل کے ساتھ ساتھ روس سے بھی سخوئی-57 فائٹر جیٹس کا سودا کرے گا؟

دراصل، انڈین ایکسپریس اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق پبلک سیکٹر کمپنی ایچ اے ایل (HAL) کو اب بھی روس سے اس رپورٹ کا انتظار ہے جس میں ہندوستان میں سخوئی-57 طیارے بنانے پر آنے والی لاگت کا اندازہ دیا گیا ہے۔ سخوئی-57 کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ امکان ہے کہ یہ رپورٹ اسی ماہ ایچ اے ایل کو موصول ہو جائے گی۔

ملک میں سخوئی-57 بنانے پر کتنا خرچ آئے گا؟

اس رپورٹ میں ایچ اے ایل کو بتایا جائے گا کہ اس منصوبے کو ملک میں شروع کرنے پر کتنا خرچ آئے گا۔ یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ہندوستان پہلے ہی سخوئی طرز کے طیارے تیار کرتا رہا ہے۔ روس کے ساتھ سال 2000 میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت ہندوستان میں 250 سے زائد سخوئی-30 ایم کے آئی فائٹر جیٹس تیار کیے جا چکے ہیں۔ یہ انتہائی طاقتور چوتھی نسل کے طیارے ہیں اور ان کی تیاری کے لیے بنایا گیا انفراسٹرکچر آج بھی موجود ہے۔

حال ہی میں سخوئی-57 کے حوالے سے روس کی ایک ٹیم ہندوستان کے دورے پر آئی تھی۔ اس ٹیم کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں اس فائٹر جیٹ کی تیاری کے لیے تقریباً 50 فیصد سہولیات پہلے سے موجود ہیں۔ ٹیم نے اس منصوبے پر آنے والے ممکنہ اخراجات پر ایک رپورٹ دینے کی بات کہی تھی، جس کا ایچ اے ایل کو انتظار ہے۔

فی الحال ایچ اے ایل کی ناسک ڈویژن میں سخوئی-30 ایم کے آئی کی فائنل اسمبلی لائن موجود ہے۔ کوراپُٹ ڈویژن میں اے ایل-31 ایف پی ٹربوفین انجن کی لائسنس یافتہ پیداوار کی جاتی ہے، جبکہ کیرالہ میں ان فائٹر جیٹس کے ایویونکس کمپوننٹس تیار کیے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، صلاحیت اور لاگت کا یہ جائزہ ایچ اے ایل کی پہل پر کیا جا رہا ہے۔

تقریباً 1000 فائٹر جیٹس کی ضرورت

ابھی تک حکومت نے یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ پانچویں نسل کے فائٹر جیٹس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کون سے طیارے خریدے جائیں گے۔ ہندوستان فی الحال 4.5 نسل کے فرانسیسی رافیل طیاروں کی خریداری کی تیاری کر رہا ہے۔ جہاں تک پانچویں نسل کے جیٹس کا تعلق ہے، تو اس وقت ہمارے پاس صرف دو ہی آپشن موجود ہیں ۔ایک امریکی ایف-35 اور دوسرا روسی سخوئی-57۔ چین کے پاس پانچویں نسل کا جے-20 طیارہ موجود ہے، جسے ہم خرید نہیں سکتے۔

اس کے علاوہ دنیا کے کسی اور ملک کے پاس اپنا پانچویں نسل کا فائٹر جیٹ نہیں ہے۔ ہندوستان خود بھی پانچویں نسل کے فائٹر جیٹ کا اے ایم سی اے (AMCA) منصوبہ چلا رہا ہے، لیکن اس میں ابھی وقت لگے گا۔ اندازہ ہے کہ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو دیسی پانچویں نسل کے فائٹر جیٹس 2035 تک فضائیہ کو مل سکیں گے۔

جہاں تک ہندوستانی فضائیہ کا تعلق ہے، اس وقت اس کے پاس تقریباً 30 اسکواڈرن ہیں، جبکہ منظور شدہ صلاحیت 42 اسکواڈرن کی ہے۔ لیکن چین اور پاکستان جیسے دشمن ممالک کی طاقت اور دو محاذوں پر جنگ کے خدشے کو دیکھتے ہوئے ماہرین اسکواڈرن کی تعداد 60 تک بڑھانے کی بات کر رہے ہیں۔ یعنی ہندوستانی فضائیہ کو کم از کم 1000 سے 1100 فائٹر جیٹس سے لیس کرنا ہوگا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *