خانداندانوں میں آپسی بات چیت کی کمی ’لو جہاد‘ کی بڑی وجہ ہے : آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت،اویسی نے سماج کو تقسیم کرنے والابیان قراردیا

(اےیوایس)

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے بدھ کے روز کہا کہ خاندان کے اندر مکالمے اور بات چیت کی کمی اس رجحان کی ایک بڑی وجہ ہے جسے وہ ’’لو جہاد‘‘ قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس مسئلے کو روکنا ہے تو اس کی شروعات گھروں سے ہونی چاہیے۔

مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں منعقدہ اسٹری شکتی سمواد پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ’’ایک لڑکی کسی اجنبی کے زیرِ اثر کیسے آ سکتی ہے‘‘۔ انہوں نے زور دیا کہ خاندان کے اندر مضبوط رابطہ، مکالمہ اور اخلاقی تربیت نہایت ضروری ہے۔ خواتین کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے آر ایس ایس چیف نے کہا کہ بچے کی اخلاقی اقدار کی تشکیل زندگی کے پہلے بارہ برسوں میں ہوتی ہے، اور اس عمل میں ماں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق، ماں بچے کی شخصیت کی ’’اصل معمار‘‘ ہوتی ہے۔ موہن بھاگوت نے کہا کہ مرد اور عورت کے درمیان ’’برابری کی شراکت‘‘ لازمی ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ماضی میں عدم استحکام اور حملوں کے خطرات کے باعث خواتین پر بعض پابندیاں عائد کی جاتی تھیں، لیکن موجودہ حالات میں وہ وجوہات اب باقی نہیں رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’لو جہاد‘‘کو روکنے کے لیے تین سطحوں پر کوششیں درکار ہیں تاکہ سماج میں استحکام برقرار رکھا جا سکے، تاہم انہوں نے ان سطحوں کی تفصیل بیان نہیں کی۔ موہن بھاگوت کے ان بیانات پر سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے ان کے مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بالغ افراد کو قانونی طور پر اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل ہے۔

مہاراشٹر کے شہر امراوتی میں خطاب کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ اگر واقعی ’’لو جہاد‘‘ جیسا کوئی عمل ہو رہا ہے تو اس سے متعلق ٹھوس اعداد و شمار پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور موہن بھاگوت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اصطلاح کی واضح تعریف کریں اور گزشتہ گیارہ برسوں کا ریکارڈ عوام کے سامنے رکھیں۔ اویسی نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس جیسے ادارے روزگار، چین اور لداخ جیسے سنگین قومی مسائل پر بات کرنے سے قاصر ہیں، جبکہ سماج کو تقسیم کرنے والے موضوعات کو بار بار اٹھایا جا رہا ہے۔

’’لو جہاد‘‘ ایک متنازع اصطلاح ہے جو گزشتہ کچھ برسوں سے بھارتی سیاست میں زیرِ بحث ہے۔ بعض ہندو تنظیمیں اس اصطلاح کو اس دعوے کے لیے استعمال کرتی ہیں کہ مسلمان مرد منصوبہ بندی کے تحت غیر مسلم خواتین سے شادیاں کرتے ہیں، جبکہ ناقدین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے بے بنیاد، امتیازی اور آئینی حقوق کے خلاف قرار دیتی ہیں۔ عدالتیں بھی متعدد مواقع پر اس اصطلاح کے لیے ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی کی نشاندہی کر چکی ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *