ایران میں اقتصادی سست روی،مہنگائی اور ڈالرکے مقابلے ریال کی قدرمیں کمی پر عوام کی برہمی مظاہروں کی صورت پھوٹ پڑی ہے۔اتوار سے جاری ان مظاہروں نے جمعرات کوپُرتشددروپ اختیار کرلیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ، کئی مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے بیچ جھڑپوں میں کئی افراد کی ہلاکت کی خبر ہے۔ان جھڑپوں میں پاسدران انقلاب کے ایک اہلکار کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ، جھڑپوں میں10 سے زیادہ سکیورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بات بھی کہی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ،اس دوران سکیورٹی اہلکاروں نے سات افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔ان افراد کا تعلق امریکہ اور یورپ میں مقیم ان گروپوں سے ہے جو اسلامی ربپلک کے خلاف ہیں۔
اس بیچ، ایرانی حکومت مظاہرین سے امن و امان بنائے رکھنے کی اپیل کی ہے۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں حکومت سے اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے حکومت سے اقدامات کرنے کو کہا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے جمعرات کہا کہ حکام مزدور تنظیموں اور تاجروں کے نمائندوں کے ساتھ راست بات چیت کریں گے ۔تاہم بات چیت کب ہوگی اس بارے میں انھوں نے کوئی جانکاری نہیں دی۔
تہران سے مظاہروں کاآغاز
دارالحکومت تہران سے ان مظاہروں کی پُرامن شروعات ہوئی تھی جو تہران کے حدود سے نکل کر دیگر شہروں تک پہنچ گئی۔ ان مظاہروں کی کم سے کم 10 یونیورسٹیوں نے حمایت کی ہے۔
ان مظاہروں کو 2022 میں نوجوان خاتون مہسا امینی کی حراست میں ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہروں کے بعد سے سے بڑے مظاہرے قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ،ایران پر طویل عرصے سے امریکہ اور بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں ۔ایرانی معیشت مسلسل ان پابندیوں کے زیراثر ہے۔اس دوران ،اسرائیل ۔ایران تنازع بھی ہوا۔ 12 روزہ تنازع کا خاتمہ جنگ بندی معاہدے پر ہوا۔حالیہ مہینوں میں ایرانی کرنسی کی قدر میں مزید کمی آئی ہے۔ اِس وقت ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 14 لاکھ ایرانی ریال تک پہنچ چکی ہے۔