یمن کے مسئلے کا حل سفارتکاری، اس کے لیے سعودی عرب کے ساتھ ہیں: پاکستان

(اےیوایس)
پاکستان نے یمن کے مسئلے کے حل کے لیے سفارت کاری کی حمایت کرتے ہوئے اس حوالے سے سعودی عرب سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔جمعرات کو اسلام آباد میں پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ یمن کی وحدت اور خودمختاری کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ پاکستان کسی بھی ایک یمنی فریق کی جانب سے اٹھانے والے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا ہے اور اس معاملے پر سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘
ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ امید ہے کہ یمن کے عوام اور علاقائی طاقتیں باہمی تعاون دیرپا حل کی جانب بڑھیں گی۔ ’وزیراعظم شہباز شریف نے محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، اور دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر گفتگو کی۔‘ ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا۔ ’متحدہ عرب امارات کی لیڈر شپ اس ہفتے پاکستانی قیادت کے ساتھ رابطے میں رہی۔ وزیراعظم نے زاید النہیان سے اسلام آباد اور رحیم یار خان میں ملاقاتیں کیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو تبوک کے گورنر نے بھی ٹیلیفون کال کی۔
یہ پیشرفت یمن میں اُس واقعے کے بعد ہوئی جس میں سعودی قیادت میں اتحاد نے کہا کہ اس نے 30 دسمبر کو ایک ’محدود‘ فضائی حملے میں سمگل کیے گئے ہتھیاروں اور فوجی ساز و سامان کی دو شپمنٹس کو نشانہ بنایا جو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے جنوبی یمن میں مکلا بھیجی گئی تھیں۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کو مسترد کرتے ہیں۔ ’صومالیہ کی خودمختاری کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، اسحاق ڈار نے صومالیہ کے معاملے پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور او آئی سی کے ہمراہ ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کی مذمت کی گئی۔‘ ترجمان نے بتایا کہ صومالیہ کے وزیر خارجہ نے اسحاق ڈار کو ٹیلفون کال کی اور اُن کا شکریہ ادا کیا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *