(اےیوایس)
خالدہ ضیاء گزشتہ کئی برسوں سے جگر کے شدید مرض (سروسس)، ذیابیطس، گٹھیا اور دل و سینے کی بیماریوں میں مبتلا تھیں۔ ان کی صحت طویل عرصے سے تشویشناک بتائی جا رہی تھی اور وہ مسلسل طبی نگرانی میں تھیں۔گزشتہ برسوں میں سیاسی بحرانوں اور قید و بند کی صعوبتوں کے باوجود خالدہ ضیاء نے نومبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ فروری ۲۰۲۶ء میں ہونے والے عام انتخابات میں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ یہ انتخابات بنگلہ دیش میں ایک بڑی عوامی تحریک کے بعد ہونے جا رہے تھے، جس کے نتیجے میں ان کی دیرینہ سیاسی حریف شیخ حسینہ اقتدار سے ہٹ گئی تھیں۔
ان کی زندگی کے آخری دنوں میں بی این پی کے عبوری رہنما محمد یونس نے خالدہ ضیاء کو قوم کے لیے ’’حوصلے اور جدوجہد کی علامت‘‘ قرار دیا تھا اور ان کی صحت یابی کے لیے دعا کی اپیل کی تھی۔ واضح رہے کہ خالدہ ضیاء کو ۲۰۱۸ء میں شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں قید کیا گیا تھا، جبکہ اس دوران بیرونِ ملک علاج کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی۔ بعد ازاں گزشتہ سال سیاسی تبدیلی کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔