یوکرین جنگ بندی: ٹرمپ کی زیلنسکی اور یورپی لیڈران سے گفتگو، ’نمایاں پیش رفت‘ کا دعویٰ
(اےیوایس)
روس، یوکرین کی تعمیر نو میں مدد کرے گا
صدر ٹرمپ نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے صدر پوتن کے ساتھ یوکرین جنگ کے بعد تعمیرِ نو کے حوالے سے بھی بات کی ہے، جس پر ماسکو نے مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، روس جنگ کے خاتمے کے بعد یوکرین کو سستی توانائی، بجلی اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کرکے اس کی بحالی میں مدد کرے گا۔ دوسری جانب صدر زیلنسکی نے تصدیق کی کہ دونوں فریقین نے تکنیکی ٹیموں کی ملاقات پر اتفاق کیا ہے تاکہ بقایا مسائل کو حل کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، جنوری ۲۰۲۶ء میں واشنگٹن میں یوکرینی اور یورپی لیڈران کے ایک سربراہی اجلاس بھی متوقع ہے۔
ٹرمپ کی یورپی لیڈران سے گفتگو
فلوریڈا میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے یورپی لیڈران کے ساتھ گفتگو کی۔ انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر، جرمن چانسلر فریڈرک میرز اور دیگر یورپی لیڈران کے ساتھ ایک گھنٹہ طویل ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں جنگ کے خاتمے کیلئے ”ٹھوس اقدامات“ پر غور کیا گیا۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ یورپی ممالک جنگ کے بعد سیکیورٹی انتظامات میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات اپنے ”آخری مراحل“ میں ہیں اور ان کا واحد مقصد اس خونی تنازع کو فوری طور پر ختم کرنا ہے۔
روس کا محتاط رویہ
تاہم، ان مذاکرات کے دوران ماسکو نے محتاط رویہ اپنا رکھا ہے۔ کریملن کے مشیر یوری اوشاکوف نے واضح کیا کہ عارضی جنگ بندی کی کوئی بھی تجویز جو یوکرین اور یورپ کی حمایت یافتہ ہو، صرف تنازع کو طول دینے کا سبب بنے گی۔ روس نے اپنے ان مطالبات کو ایک بار پھر دہرایا جن میں یوکرینی افواج کا ڈنباس سے انخلاء اور یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کی مستقل مخالفت شامل ہے۔
اس سیاسی گہما گہمی کے دوران روس کے یوکرین پر ڈرون اور میزائل حملے بھی جاری ہیں جس سے شدید سردی کے موسم میں بجلی اور حرارت کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔ صدر پوتن نے اتوار کو خبردار کیا کہ اگر کیف نے مذاکرات کے ذریعے تصفیہ سے انکار کیا تو روس اپنے مقاصد فوجی ذرائع سے حاصل کرے گا۔