دسمبر 26)اےیوایس)
نیو یارک پوسٹ کے مطابق کئی زائرین نے اس نعرے کو تقسیم کرنے والا اور غیر ضروری قرار دیا، اور کہا کہ حضرت عیسیٰ ایک عالمگیر مذہبی شخصیت ہیں، نہ کہ کسی جدید سیاسی یا قومی شناخت سے منسلک۔ برطانوی سیاحوں میں سے بھی کچھ نے کہا کہ اس طرح کا پیغام تہوار کے اس دور میں توہین آمیز محسوس ہو سکتا ہے، جو لوگوں کو متحد کرنے کیلئے ہوتا ہے۔ آن لائن ردِعمل بھی ملا جلا رہا۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے اس بل بورڈ کو بامعنی اور جرات مندانہ قرار دیا، جبکہ دیگر نے الجھن کا اظہار کیا یا امریکی عوامی مقام پر اس کی تنصیب پر سوال اٹھائے۔ اے ڈی سی کے نیشنل ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد ایوب نے کہا کہ تنظیم اس سال کے آغاز سے ٹائمز اسکوائر میں اشتہاری جگہ کرائے پر لے رہی ہے اور ہر ہفتے پیغامات تبدیل کئےجاتے ہیں۔ ان کے مطابق مقصد گفتگو کو فروغ دینا اور عیسائیوں، مسلمانوں اور عرب امریکیوں کے درمیان مشترکہ روایات کو اجاگر کرنا ہے، خاص طور پر اس وقت جب ٹائمز اسکوائر میں لوگوں کی آمد سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
ایوب نے مزید کہا کہ یہ مہم اس تاثر کا مقابلہ کرنے کی کوشش ہے کہ امریکہ میں عرب اور مسلم نقطۂ نظر کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ کی شناخت سے متعلق بحث پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تشریحات مختلف ہو سکتی ہیں اور ہر فرد کو اپنے عقائد کے اظہار کا حق حاصل ہے۔ تنظیم نے بعد ازاں اصل نعرے کی جگہ ایک نیا بل بورڈ لگایا جس پر سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کا قول درج ہے: ’’Jesus would say: ‘tear down this wall‘‘ جو برلن کی دیوار اور اسرائیلی سیکوریٹی رکاوٹ کے درمیان ایک علامتی ربط کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ نئے سال کی آمد کے موقع پر مزید پیغامات متوقع ہیں، جو اے ڈی سی کی اس نیت کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس علامتی مقام پر اپنی نمایاں اور مکالمہ پر مبنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتی ہے۔