مسلمانوں کے خلاف مظالم سے متعلق سوال پوچھنے پرجامعہ ملیہ اسلامیہ کےپروفیسر معطل، جانچ کمیٹی تشکیل
دسمبر24(اےیوایس)
سوال پوچھنا کتنا مشکل ہے اس کا اندازہ بی اے (آنرس) کے سوشل ورک کے پہلے سمیٹر کے لیے سوال نامہ تیار کرنے والے پروفیسر کو نہیں ہوگا۔ اب ان کے پوچھے گئے سوال پر تنازع ہوگیا ہے اور انھیں معطل کردیاگیا ہے۔
دراصل، جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں بی اے (آنرس ) سوشل ورک کے پہلے سمسٹر کے مضمون ’ ہندوستان میں سماجی مسائل‘ کا امتحان 21 دسمبر 2025 کو تھا۔ جس میں15 نمبر کا ایک سوال تھا بھارت میں مسلم اقلیتوں کے خلاف مظالم پرمناسب مثالوں کے سات تفصیلی جواب تحریر کریں ۔ پیپر کی تصویر وائرل ہوتے ہی تنازع کھڑا ہو گیا۔ یونیورسٹی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سوال تیار کرنے والے پروفیسر کو معطل کر دیا ہے۔ اس نے جانچ کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔
پیپر وائرل ہونے اور شکایات کے بعد، جامعہ ملیہ اسلامیہ انتظامیہ نے 23 دسمبر 2025 کو پروفیسر شہارے کو فوری طور پر معطل کر دیا۔ آفیشئٹنگ رجسٹرار شیخ صفی اللہ کی طرف سے جاری کردہ ایک حکم میں لاپرواہی کا حوالہ دیا گیا ہے۔ معطلی کے دوران وہ بغیر اجازت شہر سے باہر نہیں جا سکیں گے ۔ یونیورسٹی نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
کچھ رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ پولیس ایف آئی آر ضوابط کے مطابق درج کی جائے گی، تاہم، ایک اور رپورٹ میں ڈپٹی رجسٹرار کا حوالہ دیا گیا ہے کہ فی الحال ایف آئی آر کا منصوبہ نہیں ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ یہ پورا معاملہ جامعہ کے سوشل ورک ڈپارٹمنٹ سے متعلق ہے جو یو جی سی ستنٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی بھی ہے۔ کچھ طلبہ گروپس نے معطلی پر احتجاج کرتے ہوئے اسے تعلیمی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے، جب کہ دیگر اس سوال کوجانبداری پر محمول کررہے ہیں ۔ مجموعی طور پر، امتحان میں ایک ہی سوال نے ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
وریندر بالاجی شہارےجامعہ ملیہ اسلامیہ کے سوشل ورک ڈپارٹمنٹ میں پروفیسر ہیں۔ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر ان کے پروفائل کے مطابق، ان کے پاس تدریس اور تحقیق کا 22 سال سے زیادہ کا تجربہ ہے۔ ان کی دلچسپی کے شعبوں میں دیہی اور شہری کمیونٹی کی ترقی، دلت اور قبائلی مطالعہ، تنوع، تعلیم اور سماجی ترقی، تحقیق، اور پالیسی تجزیہ شامل ہیں۔ انہوں نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سینٹر فار دی اسٹڈی آف سوشل سسٹم سے پی ایچ ڈی اور ایم فل کی ڈگری حاصل کی ہے۔