پاکستان غزہ کے لیے مجوزہ بین الاقوامی استحکامی فورس کی قیادت کا خواہاں، امریکہ سے رابطے جاری | خصوصی رپورٹ

(اےیوایس)

پاکستان غزہ کے لیے مجوزہ بین الاقوامی استحکامی فورس کی قیادت کا خواہاں، امریکہ سے رابطے جاری | خصوصی رپورٹ

 غزہ فورس کی قیادت کے لیے پاکستان کررہا ہے کوشش: منوج گپتا کی رپورٹ

دسمبر24(اےیوایس)

پاکستان غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکامی فورس (International Stabilisation Force – ISF) کی قیادت کردار حاصل کرنے کا خواہاں ہے اور اس ضمن میں اس نے امریکا سمیت متعلقہ عالمی قوتوں کو اپنی مشروط آمادگی سے آگاہ کر دیا ہے۔ اس پیش رفت سے باخبر متعدد ذرائع کے مطابق، پاکستان نے سیاسی، فوجی اور معاشی نوعیت کی کئی اہم شرائط بھی سامنے رکھی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد چاہتا ہے کہ اگر غزہ میں ISF تعینات کی جاتی ہے تو اس کی کمان پاکستان کے سپرد ہو اور فورس کی قیادت ایک سینئر پاکستانی جنرل کرے۔ تاہم پاکستان کی شمولیت اس شرط سے مشروط ہو گی کہ اس مشن کو وسیع عالمی حمایت حاصل ہو، بالخصوص فلسطین-اسرائیل تنازع کے حل سے متعلق واضح سیاسی یقین دہانیاں اور پاکستان کے لیے طویل المدتی معاشی و سلامتی ضمانتیں فراہم کی جائیں۔

اعلیٰ سطحی سکیورٹی ذرائع کے مطابق، امریکی اور پاکستانی دفاعی حکام کے درمیان مسلسل رابطے جاری ہیں، جن میں ISF کی ممکنہ تشکیل، اس کے مینڈیٹ اور عملی طریقہ کار پر غور کیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ جلد ہی فورس کے اسٹرکچر، منصوبہ بندی اور شرائطِ کار (Terms of Reference) پر اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہوں گی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی سینٹ کام (CENTCOM) کے کمانڈر کے درمیان ملاقات متوقع ہے، جبکہ امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو سے علحدہ سفارتی سطح پر رابطے بھی زیرِ غور ہیں۔

انٹیلی جنس معلومات کے مطابق ایک سینئر امریکی سفارتی اور دفاعی وفد جلد پاکستان کا دورہ کر سکتا ہے، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اسلام آباد آنے کی بھی توقع ہے، جو خطے سے متعلق وسیع تر مشاورت کا حصہ ہو گی۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں حالات سازگار ہونے پر فوری طور پر بین الاقوامی استحکامی نظام کے قیام میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورے ،جن میں سعودی عرب، اردن، مصر اور لیبیا شامل ہیں،  دراصل ISF میں پاکستان کے ممکنہ کردار اور اس کی تشکیل سے متعلق ابتدائی مشاورت کا حصہ تھے۔ یہ دورے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ اسٹریٹجک دفاعی تعاون معاہدے کے بعد سامنے آئے ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے فوجی کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔

پاکستان کی شرائط

مجوزہ فریم ورک کے تحت پاکستان نے متعدد واضح شرائط رکھی ہیں، جن میں سب سے اہم شرط دو ریاستی حل (Two-State Solution) کے لیے واضح عالمی عزم ہے، جس میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت شامل ہو۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ ISF کا ابتدائی کردار امن قائم کرنے اور استحکام تک محدود ہونا چاہیے، اور وہ فی الحال غزہ میں کسی اسلحہ تلفی (Disarmament) کے عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔

اسلام آباد نے اس قیادت کے کردار کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر اور امریکا کی مشترکہ حمایت بھی طلب کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے اپنی بگڑتی ہوئی معیشت کے استحکام کے لیے امریکا اور خلیجی ممالک سے طویل المدتی مالی سرمایہ کاری اور سکیورٹی پیکیجز کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکا سے میجر نان نیٹو اتحادی (Major Non-NATO Ally – MNNA) کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، جو اسے 2004 میں دیا گیا تھا، جبکہ سابق امریکی حکومتوں کے دوران معطل کیے گئے فوجی تربیتی اور اسلحہ فراہمی پروگرامز کی بحالی بھی پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔

افغانستان سے ابھرنے والی دہشت گردی کے خلاف انسداد دہشت گردی میں اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش بھی پاکستان کی شرائط میں شامل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اسرائیل سے واضح سکیورٹی ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے، خاص طور پر اسرائیل اور بھارت کے قریبی اسٹریٹجک تعلقات کے تناظر میں۔ پاکستان چاہتا ہے کہ اسے ISF کے لیے قائم ہونے والے مشترکہ رابطہ و کوآرڈی نیشن ہیڈکوارٹر میں امریکا، اسرائیل اور دیگر اہم فریقوں کے ساتھ شامل کیا جائے۔

اگرچہ یہ تمام بات چیت تاحال ابتدائی اور مشاورتی مرحلے میں ہے، تاہم ذرائع کے مطابق امریکا اور پاکستان کے درمیان بڑھتا ہوا رابطہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی صورتحال میں خود کو مشرقِ وسطیٰ کا ایک اہم سکیورٹی شراکت دار کے طور پر دوبارہ منوانا چاہتا ہے۔

غزہ میں جاری جنگ اور انسانی بحران کے بعد عالمی سطح پر یہ بحث زور پکڑ چکی ہے کہ جنگ کے بعد وہاں امن و استحکام کیسے قائم کیا جائے۔ امریکا اور اس کے اتحادی ایک ایسی بین الاقوامی فورس پر غور کر رہے ہیں جو جنگ کے بعد غزہ میں امن، نظم و نسق اور بحالی کے عمل کی نگرانی کر سکے۔
پاکستان، جو ماضی میں اقوام متحدہ کے امن مشنز میں نمایاں کردار ادا کرتا رہا ہے، اس موقع کو اپنی عالمی فوجی ساکھ اور سفارتی حیثیت بحال کرنے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *