برلن، جرمنی: فلسطینیوں سے یکجہتی کیلئے ٹارچ لائٹ مارچ

(اےیوایس)

برلن، جرمنی: فلسطینیوں سے یکجہتی کیلئے ’’ٹارچ لائٹ مارچ‘‘

دستمبر17 (اےیوایس)

برلن میں فلسطینیوں کے حق میں ٹارچ لائٹ مارچ کے دوران مظاہرین نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاج کیا اور جرمن حکومت کی اسرائیل نواز پالیسیوں پر تنقید کی۔ مظاہرین نے انسانی جانوں کے تحفظ، جنگ بندی اور فلسطینی عوام کے حقوق کیلئے آواز بلند کی جبکہ غزہ میں جاری انسانی بحران پر عالمی توجہ مبذول کرانے کا مطالبہ کیا۔

منگل کو جرمنی کے دارالحکومت برلن میں سیکڑوں مظاہرین فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کیلئے ٹارچ لائٹ مارچ میں شریک ہوئے جس میں انہوں نے موم بتیاں اور لالٹینیں اٹھا رکھی تھیں۔ یہ احتجاج غزہ پٹی پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کے خلاف منعقد کیا گیا، جس میں انسانی جانوں کے ضیاع اور جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مظاہرین برلن کے علاقے کروزبرگ میں واقع ہوہین شٹافن اسکوائر پر جمع ہوئے، جہاں سے انہوں نے لالٹینیں اور موم بتیاں اٹھا کر ہالیچ ٹور سب وے اسٹیشن کی جانب مارچ کیا۔ مارچ کے دوران فضا فلسطینی عوام کے حق میں نعروں سے گونجتی رہی۔

فلسطینی پرچم تھامے مظاہرین نے ’’فلسطین کی آزادی‘‘ اور ’’دہشت گرد اسرائیل‘‘ جیسے نعرے لگائے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ ان کا احتجاج کسی قوم یا مذہب کے خلاف نہیں بلکہ عام شہریوں، خصوصاً بچوں اور خواتین، پر ہونے والے حملوں کے خلاف ہے۔ مظاہرے کے دوران جرمن حکومت کی اسرائیل کی حمایت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ مظاہرین کا موقف تھا کہ جرمنی کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر غیر جانبدار کردار ادا کرنا چاہئے، اور غزہ میں جاری انسانی بحران پر واضح مؤقف اختیار کرنا چاہئے۔

خیال رہے کہ یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب غزہ میں حالات بدستور سنگین ہیں۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً ۷۰؍ ہزار ۷۰۰؍ سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے جبکہ ایک لاکھ ۷۱؍ ہزار سے زائد افراد زخمی چکے ہیں۔ شدید بمباری کے باعث غزہ کا بڑا حصہ ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے اور لاکھوں افراد بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ دنیا کے مختلف شہروں کی طرح برلن میں بھی یہ مظاہرہ اس وسیع تر عالمی تحریک کا حصہ تھا، جس کے تحت شہری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی بارہا شہری ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *