برلن، جرمنی: فلسطینیوں سے یکجہتی کیلئے ’’ٹارچ لائٹ مارچ‘‘
دستمبر17 (اےیوایس)
فلسطینی پرچم تھامے مظاہرین نے ’’فلسطین کی آزادی‘‘ اور ’’دہشت گرد اسرائیل‘‘ جیسے نعرے لگائے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ ان کا احتجاج کسی قوم یا مذہب کے خلاف نہیں بلکہ عام شہریوں، خصوصاً بچوں اور خواتین، پر ہونے والے حملوں کے خلاف ہے۔ مظاہرے کے دوران جرمن حکومت کی اسرائیل کی حمایت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ مظاہرین کا موقف تھا کہ جرمنی کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر غیر جانبدار کردار ادا کرنا چاہئے، اور غزہ میں جاری انسانی بحران پر واضح مؤقف اختیار کرنا چاہئے۔
خیال رہے کہ یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب غزہ میں حالات بدستور سنگین ہیں۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً ۷۰؍ ہزار ۷۰۰؍ سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے جبکہ ایک لاکھ ۷۱؍ ہزار سے زائد افراد زخمی چکے ہیں۔ شدید بمباری کے باعث غزہ کا بڑا حصہ ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے اور لاکھوں افراد بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ دنیا کے مختلف شہروں کی طرح برلن میں بھی یہ مظاہرہ اس وسیع تر عالمی تحریک کا حصہ تھا، جس کے تحت شہری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی بارہا شہری ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔