گھر میں مچی ہے افراتفری ، مگر عاصم منیر چل دئے امریکہ ، ٹرمپ کی پھر کریں گے جی حضوری
US-Pakistan Relation: پاکستان کی اندرونی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ فوج مسلسل عسکریت پسندوں کے حملوں کی زد میں ہے، پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں، اور عوام بنیادی ضروریات کے لیے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل میں ہی رکھنے کی فوج کی پالیسی کے خلاف عوام آرمی چیف عاصم منیر کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ادھر ان سے سب سے بے پرواہ عاصم منیر امریکی دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔
اس وقت پاکستان کی پو ری طاقت عاصم منیر کی مٹھی میں ہے ۔ تاہم انہیں ایک بڑے امتحان کا سامنا ہے کیونکہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اسٹیبلائزیشن فورس کے لیے غزہ میں فوج بھیجے جو کہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی کے خلاف ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کے اندر اہم سیاسی اور سماجی مخالفت کو جنم دے سکتا ہے۔ ٹرمپ اور منیر کے درمیان اگلی ملاقات میں یہ اہم مسئلہ ہو سکتا ہے۔
کہتے ہیں نا ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ اتحاد کرنے کی کوشش میں اسی ردعمل کا سامنا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے میں جنگ سے تباہ حال خطے میں تعمیر نو اور اقتصادی بحالی کی راہ ہموار کرنے کے لیے غزہ میں مسلم ممالک کی فوج تعینات کرنے کی تجویز ہے۔ بہت سے ممالک اس سے دور رہ رہے ہیں کیونکہ وہ حماس کے خلاف کارروائی میں پھنسنے اور اپنے ممالک میں اسرائیل مخالف جذبات بھڑکنے کے ڈرے ہوئے ہیں ۔ منیر ایسا کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے جب کہ انہوں نے دو بار بریانی کھا کر ٹرمپ کے ساتھ گہرا تعلق پیدا کر لیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان فوج بھیجنے سے انکار کرتا ہے تو یہ ٹرمپ کو ناراض کر سکتا ہے جو کہ پاکستان کی اقتصادی اور سکیورٹی امداد کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کی دشمنی بری ہے لیکن ‘دوستی’ دو دھاری تلوار ہے
پاکستان دنیا کا واحد مسلم ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، اور اس کی فوج کے پاس وسیع جنگی تجربہ ہے۔ بھارت کے ساتھ تین جنگیں، دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں اور اب افغانستان کے تنازع نے اسے جنگی تجربہ دیا ہے۔ اب منیر پر اپنی فوج کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا دباؤ ہے۔ تاہم امریکی منصوبے کے تحت غزہ میں فوج بھیجنا اسلام پسند گروپوں کی جانب سے بڑے احتجاج کو جنم دے سکتا ہے۔ یہ گروہ امریکہ اور اسرائیل کے سخت مخالف ہیں اور ہزاروں لوگوں کو سڑکوں پر لانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ منیر پر اسرائیل کے مفادات میں کام کرنے کا الزام بھی لگایا جا سکتا ہے۔
عاصم منیر کو حال ہی میں بے مثال طاقت ملی۔ انہیں تینوں مسلح افواج کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے اور ان کی مدت ملازمت میں 2030 تک توسیع کر دی گئی ہے۔ انہیں تاحیات قانونی تحفظ بھی حاصل ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شاید ہی کوئی اور شخص اتنا طاقتور رہا ہو لیکن ان کا دور انتشار سے بھرا ہوا ہے۔