روس-یوکرین جنگ: ڈونالڈ ٹرمپ بے نتیجہ امن مذاکرات سے تنگ آگئے
ٹرمپ نے بدھ کو فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے لیڈروں سے فون پر بات چیت کی اور بعد میں کہا کہ ان کے درمیان ایک پرجوش تبادلہ خیال ہوا جس میں اس ہفتے کے آخر میں یورپ میں ہونے والے مذاکرات کے امکانات بھی شامل تھے۔ لیوٹ نے بتایا، ’’وہ چاہتے ہیں کہ یہ جنگ ختم ہو، اور انتظامیہ نے صرف گزشتہ چند ہفتوں میں روسیوں، یوکرینیوں اور یورپین کے ساتھ۳۰؍ گھنٹے سے زیادہ وقت ملاقاتوں میں گزارا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ اس ہفتے کے آخر کی ملاقات ہوتی ہے یا نہیں، اور انتظار کیجیے۔ ‘‘ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ سنیچرکو یورپ میں ہونے والی ملاقات میں صرف اسی صورت میں وفد بھیجے گا جب ’’ایک اچھا امکان‘‘ ہو کہ منصوبے پر اتفاق ہو جائے جس سے روس کی اپنے مشرقی یورپی ہمسائے پر جنگ ختم ہو سکے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم دیکھیں گے کہ ہم اس ملاقات میں شریک ہوتے ہیں یا نہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں شریک ہوں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم شریک ہوں، اور ہم سنیچرکو یورپ کی ملاقات میں اسی وقت شریک ہوں گے اگر ہمیں لگے کہ کامیابی کا امکان ہے، اور ہم وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ منفی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ طے ہو جائے۔ ہم بہت سی جانیں بچانا چاہتے ہیں ۔ ‘‘
ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ ملاقات کہاں ہونے والی ہے، لیکن ایکسیوس نے خبر دی کہ مقام پیرس ہے، جہاں ہر ملک کے قومی سلامتی کے مشیر مذاکرات میں شریک ہوں گے۔