طاقت سے زوال تک : فیض حمید کی 14 سال قید با مشقت، پاکستان کے پاور اسٹرکچر کا نیا موڑ؟
(دسمبر11اےیوایس)
کبھی سب سے بااثر شخصیت، آج 14 سال قید بامشقت کے مجرم۔ پاکستان کے سیکیورٹی اور سیاسی دائروں میں کبھی سب سے طاقتور سمجھے جانے والے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید اب ایک طویل اور سخت سزا کا سامنا کر رہے ہیں۔راولپنڈی کی فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے انہیں 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔ ایک ایسا منظر جو کبھی ناقابلِ تصور تھا۔
کیا یہ پاکستان میں ’اسٹیبلشمنٹ احتساب‘ کے نئے دور کی شروعات ہے؟
یہ فیصلہ صرف ایک فرد کی سزا نہیں ؟ بلکہ ایک ایسے ملک میں طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔جہاں جنرلز شاذونادر ہی کھلے احتساب کا سامنا کرتے ہیں۔فیض حمید وہ شخصیت تھے جنہیں پاکستان کی سیاسی انجینئرنگ، حکومتوں کی تشکیل، اور طاقت کے کھیل میں مرکزی کردار سمجھا جاتا تھا۔ آج وہی شخص قانونی کٹہرے میں کھڑا ہے۔
15 ماہ کی بند کمرہ کارروائی ، پہلی بار ایک طاقتور جنرل کے خلاف طویل ٹرائل ہوا
- آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی 15 ماہ تک جاری رہی
- ملزم کو مکمل قانونی حقوق دیے گئے
- چارجز میں ملوث پائے گئے سابق جنرل
- سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت
- آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی
- اختیارات کا غلط استعمال
- لوگوں کو ناجائز نقصان پہنچانا
پہلی بار پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت اتنی کھلی کارروائی
پاکستان کی عوام کابیانیہ بدل رہا ہے: ’جو طاقتور تھا، وہ بھی قانون سے بالاتر نہیں؟‘
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں سب سے زیادہ یہی سوال گردش میں ہےکہ کیا یہ فیصلہ مستقبل میں طاقت ور حلقوں کے خلاف احتساب کی راہ ہموار کرے گا؟ پاکستان میں ادارہ جاتی طاقت کے عدم توازن پر ہمیشہ بحث رہی ہے۔فیض حمید جیسے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف اتنی سخت سزا نے یہ بحث ایک نئی سمت دے دی ہے۔سیاسی زاویہ: فیض حمید ،پاکستان کی تاریخ میں طاقت کی راہداریوں کا اہم کھلاڑی رہاہے فیض حمید کا نام فیض آباد دھرنے، سیاسی مداخلت،پی ٹی آئی حکومت کی تشکیل، اور طالبان سے خفیہ ملاقاتوں تک جڑا رہا ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف، جج شوکت عزیز صدیقی اور کئی سیاسی شخصیات نےانہیں پاکستان کی سیاست کے غیرمرئی ہاتھ کے طور پر پیش کیا۔آج وہی کردار پابندِ سلاسل ہے جو کہ خود میں ہی ایک تاریخی موڑ ہے۔
سوال یہ نہیں کہ سزا کیوں ہوئی؟ سوال یہ ہے: آگے کیا ہوگا؟
- کیا مزید افسران کے خلاف بھی کارروائیاں ہوں گی؟
- کیا یہ واقعی اسٹیبلشمنٹ کے اندر صفائی کا آغاز کیا گیا ہے؟
- کیا سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار کم ہوگا یا یہ محض ایک مثال قائم کرنا چہتاہے پاکستان؟
- پاکستان کی طاقت کی سیاست میں یہ فیصلہ ایک نئے باب کی بنیاد بن سکتا ہے۔
- ایک جنرل کا زوال اور طاقت کے نظام کا لرز اٹھنا
فیض حمید کی کہانی ایک فرد کی نہیں۔یہ پاکستان کی اس طاقتور ساخت کی کہانی ہے۔جس میں پہلی بار احتساب کے دروازے اتنے بڑے کھولے گئے ہیں۔ 14 سال قید کا فیصلہ شاید صرف آج کی خبر ہو۔لیکن اس کے اثرات آنے والے کئی سالوں تک پاکستان کی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کو بدل سکتے ہیں۔