میں خاموش نہیں رہوں گا: انتونیوغطریس کا فلسطین کے دو ریاستی حل کی کوشش جاری رکھنے کا عزم
دسمبر 8 )اےیوایس)
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو غطریس نے کہا کہ وہ خاموش نہیں رہیں گے اور فلسطین کے دو ریاستی حل کیلئے اپنی کوشش جاری رکھیں گے، ساتھ ہی انہوں نے روس یوکرین جنگ ، غزہ میں اموات اور تباہی، اور سوڈان کے تشدد کو تاریک بتایا۔
بعد ازاں اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ وہ آگے بڑھنے کے سیاسی راستے کی کوششوں سے دستبردار نہیں ہوں گے، اور اس بات پر زور دیا کہ ماضی کی پرتشدد کارروائیوں کی طرف واپسی سے بچنا کافی نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’یہ بالکل ضروری ہے کہ ہم مرحلہ دو کی طرف بڑھیں، اور اس کا حتمی نتیجہ دو ریاستی حل ہو… فلسطینی عوام کی خودارادیت کے بغیر مشرق وسطی میں کوئی امن نہیں ہوگا۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ سیکورٹی کونسل ایسی پیشرفت نہیں لا سکتی، لیکن اگر واقعات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر سےمتصادم ہوتے ہیں تو وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔‘‘
اپنے خطاب کے آغاز میں،غطریس نے عالمی تصویر پیش کی، اور کہا کہ آج کا بین الاقوامی منظر نامہ ۲۰۱۷ءمیں ان کے عہدے سنبھالنے کے وقت کے مقابلے میں بہت زیادہ خطرناک ہے۔انہوں نے روس-یوکرین جنگ، غزہ میں ’’موت اور تباہی کی سطح‘‘، سوڈان، میانمار میں بڑھتا تشدد، اور افریقہ میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کا حوالہ دیا۔انہوں نے سیکورٹی کونسل کی بےعملی پر شدید تنقید کی، اسے ’’مفلوج‘‘ اور ساختی طور پر فرسودہ قرار دیا، جس میں افریقہ یا لاطینی امریکہ کی مستقل نمائندگی نہیں ہے اور’’ ویٹو‘‘ کا نظام ہے جو ’’بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی حفاظت کرتا ہے۔‘‘
ماحولیاتی بحران میں ناکامی
ماحولیاتی بحران کے بارے میں، غطریس نے شدید ترین انتباہ دیتے ہوئے اعلان کیا،’’ماحولیاتی کارروائی کے سلسلے میں میری نسل ناکام رہی ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ دنیا ایک اعشاریہ ۵؍ درجہ سیلسیس سے زیادہ درجہ حرارت میں اضافے کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کے انسانی صحت، غذائی سلامتی اور عالمی استحکام پر تباہ کن نتائج ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ قومی اخراج میں ۱۰؍ فیصد کمی کے وعدے۲۰۲۵ء تک ۶۰؍ فیصد کمی کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔