یہ کیس اس واقعے کے چند دن بعد سامنے آیا جب خان سرنے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے کوچنگ ادارے ’’خان گلوبل اسٹڈیز‘‘ کے باہر۸؍ سے۱۰؍ گولیاں چلائی گئیں، جب ایک گروہ نے مبینہ طور پر پٹنہ کے مصلہ پور علاقے میں واقع ادارے کی عمارت کو نقصان پہنچایا۔ واقعے کے بعد انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ افراد نے ادارے پر حملہ کیا اور اس کے پیچھے کاروباری حریفوں کا ہاتھ ہے۔ منگل کو عدالت نے روشن آنند کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جو ایک حریف کوچنگ ادارے کے مالک ہیں اور انہیں اس واقعے کی رات خان کے الزامات کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
اس کیس کی تحقیقات اس وقت شروع ہوئیں جب سوشل میڈیا پر ویڈیوز سامنے آئیں جن میں مبینہ طور پر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ دکھائی گئی تھی۔ گواہوں نے مبینہ طور پر ویڈیوز میں نظر آنے والے افراد کی شناخت خان گلوبل اسٹڈیز کے سکیوریٹی اہلکاروں کے طور پر کی اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے’’ہر ایک نے دو فائرکئے۔ ‘‘پولیس نے جمعہ کو بتایا تھا کہ خان سر نے تصدیق کی تھی کہ یہ افراد ان کے ادارے کے سیکوریٹی گارڈز ہیں اور استعمال ہونے والی رائفلیں لائسنس یافتہ تھیں۔ بعد میں ان گارڈز کو گرفتار کر لیا گیا۔