پٹنہ کوچنگ سینٹر فائرنگ: عدالت نے ’’خان سر‘‘ کے خلاف کارروائی روک دی

(اےیوایس)

پٹنہ میں معروف یوٹیوبر اور استاد خان سر سے متعلق ایک فوجداری کیس سامنے آیا ہے، جس میں ان پر اور ان کے سکیوریٹی اہلکاروں پر اقدامِ قتل سمیت سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ عدالت نے اس مقدمے میں اگلی سماعت تک ان کے خلاف سخت کارروائی روک دی ہے۔

دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابقپٹنہ کی ایک عدالت نے منگل کو ہدایت دی کہ بہار کے معروف استاد اور یوٹیوبر فیصل خان، جنہیں ’’خان سر‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کے خلاف اقدامِ قتل کے ایک مقدمے میں اگلی سماعت تک کوئی سخت (coercive) کارروائی نہ کی جائے۔ عدالت اس وقت خان کی جانب سے دائر کی گئی پیشگی ضمانت (anticipatory bail) کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ جمعہ کو خان سر کے خلاف ایک ایف آئی آردرج کی گئی تھی، جب ان کے دو سکیوریٹی گارڈز نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے پٹنہ میں ۲؍جون کو ان کے کوچنگ ادارے کے باہر ہونے والی کشیدگی کے دوران خان کے حکم پر فائرنگ کی تھی۔ خان، دونوں گارڈز اور نامعلوم افراد کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہیتا (Bharatiya Nyaya Sanhita) کی اقدامِ قتل سے متعلق دفعات اور آرمز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

یہ کیس اس واقعے کے چند دن بعد سامنے آیا جب خان سرنے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے کوچنگ ادارے ’’خان گلوبل اسٹڈیز‘‘ کے باہر۸؍ سے۱۰؍ گولیاں چلائی گئیں، جب ایک گروہ نے مبینہ طور پر پٹنہ کے مصلہ پور علاقے میں واقع ادارے کی عمارت کو نقصان پہنچایا۔ واقعے کے بعد انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ افراد نے ادارے پر حملہ کیا اور اس کے پیچھے کاروباری حریفوں کا ہاتھ ہے۔ منگل کو عدالت نے روشن آنند کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جو ایک حریف کوچنگ ادارے کے مالک ہیں اور انہیں اس واقعے کی رات خان کے الزامات کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

اس کیس کی تحقیقات اس وقت شروع ہوئیں جب سوشل میڈیا پر ویڈیوز سامنے آئیں جن میں مبینہ طور پر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ دکھائی گئی تھی۔ گواہوں نے مبینہ طور پر ویڈیوز میں نظر آنے والے افراد کی شناخت خان گلوبل اسٹڈیز کے سکیوریٹی اہلکاروں کے طور پر کی اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے’’ہر ایک نے دو فائرکئے۔ ‘‘پولیس نے جمعہ کو بتایا تھا کہ خان سر نے تصدیق کی تھی کہ یہ افراد ان کے ادارے کے سیکوریٹی گارڈز ہیں اور استعمال ہونے والی رائفلیں لائسنس یافتہ تھیں۔ بعد میں ان گارڈز کو گرفتار کر لیا گیا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *