واضح رہے کہ اسرائیل میں قانون ساز انتخابات اصل میں۲۷؍ اکتوبر کو ہونے تھے، لیکن حکومت کی جانب سے الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کو فوجی خدمت سے استثنیٰ دینے والا قانون منظور نہ کر پانے کی وجہ سے قبل از وقت انتخابات کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔اسرائیلی قانون کے تحت، بل کو قانون بننے کے لیے تینوں ریڈنگ میں منظور کروانا ضروری ہیں۔دریں اثناء’’ وللا‘‘ نے بتایا کہ پہلی ریڈنگ کی منظوری کے بعد بل دوبارہ کنیسٹ کمیٹی کے پاس جائے گا، جہاں اسے دوسری اور تیسری ریڈنگ کے لیے تیار کیا جائے گا اور انتخابات کی تاریخ طے کی جائے گی۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف بد عنوانی کا مقدمہ چل رہا ہے،جس کے نتیجے میں نیتن یاہو کے سر پر گرفتاری کی تلوار لٹک رہی ہے، اس کے علاوہ یاہو کے استعفے کا مطالبہ بھی بڑھتا جارہا ہے، جس سے بچنے کیلئے یاہو نے مختلف جنگی محاذ کھول رکھے ہیں، تاکہ ہنگامی صورتحال کا جواز پیش کرکے گرفتاری سے بچ سکے۔اس کے علاوہ نیتن یاہو کے خلاف عوام کا ایک بڑا طبقہ سراپا احتجاج ہے۔ ان تمام باتوں کے پیش نظر نیتن یاہو کی پارٹی کا انتخاب کو موخر کرنے کا مطالبہ اسی ڈر کا نتیجہ ہے۔