سٹی ہال کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ عمارت شہر ی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر تعمیر کی گئی ہے۔حکام کو متعلقہ فریقوں کی طرف سے مسجد کے انہدام کی درخواستیں بھی موصول ہوئی ہیں، جن پر غور کیا جا رہا ہے۔بعد ازاں غیر قانونی تعمیر سامنے آنے کے بعد ٹوکیو میں پاکستان کے سفارت خانے نے دو احتیاطی بیانات جاری کیے۔ ان میں پاکستانی سماج سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ جاپانی قوانین کی مکمل پابندی کریں، خاص طور پر عبادت گاہوں کی تعمیر کے معاملے میں۔سفارت خانے نےایک جون کو ایکس پر پوسٹ میں کہا، ’’پاکستان کا سفارت خانہ پاکستانی سماج سے مخلصانہ درخواست کرتا ہے کہ وہ جاپان میں رہتے ہوئے تمام معاملات میں، خصوصاً عبادت گاہوں کی تعمیر میں جاپانی قوانین کی مکمل پابندی کریں۔ کوئی بھی تعمیراتی پروجیکٹ مقامی حکومتوں سے ضروری اجازت نامہ حاصل کیے بغیر شروع نہیں کیا جا ئے۔‘‘تاہم سفارت خانے کا دعویٰ ہے کہ سفیر عبدالحمید نے صرف اس بنیاد پر افتتاح میں شرکت کی تھی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ جاپانی قانون کے تحت تمام منظوریاں حاصل ہیں۔۳۱؍ مئی کے ایک الگ بیان میں سفارت خانے نے واضح کیا، ’’پاکستان کا سفارت خانہ ایسے کسی بھی پروجیکٹ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا، خاص طور پر ان سے جو مقامی حکومتوں کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوں۔‘‘
کواگویی حکام متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ تعمیر سے پہلے آس پاس کے رہائشیوں کو مناسب وضاحت دی گئی تھی یا نہیں، یہ تصدیق نہیں کر سکتے، جو تنازعے کو مزید بڑھا رہا ہے۔واضح رہے کہ جاپان میں سماج سے مشاورت کو ترقیاتی پروجیکٹ کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اب یہ عمارت رہے گی یا منہدم کی جائے گی، یہ شہر کی کونسل کے فیصلے پر منحصر ہوگا۔