فوجی کارروائی کے بارے میں ٹرمپ نے کیا کہا؟
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے زیرِ زمین جوہری مواد تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی تو امریکہ جواب دے گا۔ انہوں نے کہا:’’اگر کوئی بھی اس جگہ کے قریب آیا تو ہمیں فوراً معلوم ہو جائے گا اور ہم انہیں تباہ کر دیں گے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی فوج مزید حملے بھی کر سکتی ہے اور دعویٰ کیا کہ ماضی کی کارروائیوں میں پہلے ہی متعدد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ٹرمپ نے کہا:’’ہم مزید دو ہفتے تک کارروائی کر سکتے ہیں اور ہر ایک ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ہم۷۰؍ فیصد کام کر چکے ہیں۔ ‘‘ان کے مطابق حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد ایران کمزور ضرور ہوا ہے لیکن مکمل طور پر غیر مؤثر نہیں ہوا۔
ایران کے جوہری خطرے کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا:’’ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتے کیونکہ وہ خطرناک ہیں۔ ہم انہیں جوہری صلاحیت تک رسائی نہیں دے سکتے۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو حملوں کے بعد دوبارہ تعمیر میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ کارروائیوں سے ایران کی صلاحیت کو پہلے ہی کافی نقصان پہنچا ہے۔ ٹرمپ نے امریکی داخلی معاملات پر بھی بات کی، جن میں انتخابات، توانائی کی قیمتیں اور عوامی پالیسی کے مباحث شامل تھے۔ انہوں نے انتخابی قوانین اور ووٹر شناختی قوانین پر گفتگو کرتے ہوئے ریپبلکن پارٹی کی حمایت کی اپیل کی۔
انہوں نے امریکہ میں توانائی کی پیداوار کے بارے میں کہا کہ ملک تیل اور قدرتی گیس کی پیداوار میں دنیا میں سرفہرست ہے اور پیش گوئی کی کہ مستقبل میں ایندھن کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ ٹرمپ نے نیشنل فٹ بال لیگ کی نشریاتی لاگت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بڑھتی ہوئی قیمتیں ناظرین کو متاثر کر سکتی ہیں اور شائقین کی رسائی کم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ویکسین پالیسی پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ ویکسین کے حامی ہیں لیکن لازمی ویکسینیشن کے مخالف ہیں۔ ٹرمپ نے کہا:’’ہم والدین کو فیصلہ کرنے دے سکتے ہیں۔ ‘‘ امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے بھی ایران کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی آمدنی میں کمی اور ایرانی حکام سے منسلک بیرونِ ملک اثاثوں کے خلاف مالی کارروائیوں کے باعث ایران پر معاشی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی نیتن یاہو کوایران کے یورینیم معاملے پرکوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی یقین دہانی
ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب ایران کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے اسلامک ری پبلک نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے تنازع ختم کرنے کے امریکی تجویز پر پاکستان کے ذریعے جواب بھیجا ہے۔ تاہم، امریکہ کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق مذاکرات کا مرکز خطے کو مستحکم کرنا اور نئی کشیدگی کو روکنا ہے، جس میں اہم بحری راستوں کو محفوظ بنانا بھی شامل ہے۔