اس کے منگیتر محمد شریحی نے بتایا کہ، ’’ہماری شادی میں صرف ۱۰؍ دن باقی تھے، لیکن ایک لمحے میں سب کچھ بدل گیا۔‘‘ انہوں نے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ ہالہ کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق گولی ابھی تک ہالہ کے سر میں موجود ہے اور اس نے دماغی بافتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کی حالت انتہائی نازک اور غیر مستحکم ہے، جبکہ سرجری کرنا اس وقت ممکن نہیں کیونکہ اس میں جان کا مزید خطرہ ہے۔ ہالہ کے والد سلیم نے واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ، ’’ہم کھانا تیار کر رہے تھے کہ اچانک گولی کھڑکی سے آئی اور اسے جا لگی۔ وہ ہمارے سامنے گر گئی، میں وہ منظر کبھی نہیں بھول سکتا۔‘‘
یہ واقعہ غزہ میں جاری انسانی بحران کی ایک واضح مثال ہے، جہاں مسلسل تشدد اور ناکہ بندی کے باعث صحت کا نظام تقریباً تباہ ہو چکا ہے۔ غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق ہزاروں زخمی افراد کو فوری علاج کی ضرورت ہے، مگر محدود وسائل اور ادویات کی کمی کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ۲۲؍ ہزار زخمی اور بیمار افراد کو علاج کے لیے علاقے سے باہر منتقل کرنے کی ضرورت ہے، لیکن سرحدی پابندیاں اور جاری تنازعہ اس عمل میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
عالمی ہلال احمر اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں سے ہالہ کے اہل خانہ نے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ اس کی جان بچائی جا سکے۔ مزید برآں اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق غزہ میں جاری تنازعے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس میں ہزاروں افراد ہلاک اور انفراسٹرکچر کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے۔ تعمیر نو کے لیے تقریباً ۷۰؍ ارب ڈالر درکار ہوں گے، جو اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔