امن مذاکرات تعطل کا شکار، صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی طویل ناکہ بندی کے لیے تیار رہنے کا حکم: رپورٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی کے طویل دورانیے کے لیے تیار رہیں۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یہ اقدام ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ٹرمپ نے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں واضح کیا کہ ایران کی تیل کی برآمدات کو روکنے کے لیے ہر اُس جہاز کو روکا جائے گا جو اس کی کے بندرگاہوں کی طرف جا رہا ہے یا وہاں سے روانہ ہو۔
واضح رہے کہ امریکہ نے اس ماہ ایرانی جہازوں کی ناکہ بندی شروع کر دی جس سے عالمی توانائی کی فراہمی مزید متاثر ہوئی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکہ سے ناکہ بندی ختم کرنے کی درخواست کی ہے کیونکہ وہ داخلی بحران کا شکار ہے۔ تاہم، امریکی صدر نے عندیہ دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کو مذاکرات کے آغاز ہی میں شامل کیا جانا چاہیے، جبکہ تہران چاہتا ہے کہ یہ معاملہ جنگ کے خاتمے کے بعد زیرِ بحث آئے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کی تجویز توقع سے بہتر ہے لیکن اس کی سنجیدگی پر سوال اٹھایا۔
ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک نے واشنگٹن کے مطالبات کو ’غیر قانونی اور غیر معقول‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اب آزاد ممالک پر اپنی پالیسی مسلط کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ دوسری جانب ایران نے خلیج سے گزرنے والے بیشتر جہازوں کو روک رکھا ہے اور صرف اپنے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔
امن کی کوششیں مزید کمزور ہو گئی ہیں کیونکہ ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی کی پاکستان آمد منسوخ کر دی تھی۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد کے دورے کیے لیکن کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ قطر نے خبردار کیا ہے کہ اگر مستقل حل نہ نکلا تو خطہ ’منجمد تنازع‘ کا شکار ہو سکتا ہے جو وقتاً فوقتاً دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔
ایران کی تجویز کے مطابق مذاکرات مرحلہ وار ہوں گے، پہلے جنگ ختم کی جائے اور ضمانت دی جائے کہ امریکہ دوبارہ جنگ شروع نہیں کرے گا، پھر بحری ناکہ بندی اور خلیجِ ہرمز کے مستقبل پر بات ہوگی، اور آخر میں جوہری پروگرام پر۔ یہ خاکہ 2015 کے جوہری معاہدے کی یاد دلاتا ہے جس سے ٹرمپ اپنی پہلی مدت میں یکطرفہ طور پر نکل گئے تھے۔
امریکہ میں عوامی رائے بھی بدل رہی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت کم ہو کر 34 فیصد رہ گئی ہے، کیونکہ عوام مہنگائی اور غیر مقبول جنگ سے نالاں ہیں۔ یورپی اتحادیوں کے ساتھ بھی تناؤ بڑھ رہا ہے، جرمن چانسلر نے کہا کہ ایران امریکہ کو ذلیل کر رہا ہے، جس پر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیا۔ برطانیہ کے کنگ چارلس نے امریکی کانگریس میں کہا کہ اختلافات کے باوجود دونوں ممالک جمہوریت کے دفاع میں متحد رہیں گے۔
تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھنے لگی ہیں، برینٹ خام تیل 111 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔ عالمی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر ایران کی جنگ مئی میں ختم نہ ہوئی تو توانائی کی قیمتیں 2026 میں 24 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔
دوسری طرف متحدہ عرب امارات نے اوپیک سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے، جس سے خلیجی ممالک میں مزید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ امریکی ناکہ بندی کے باعث کئی ایرانی آئل ٹینکر واپس لوٹنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ شمالی، مشرقی اور مغربی تجارتی راستوں کو استعمال کر رہا ہے تاکہ ناکہ بندی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ جنگ سے پہلے روزانہ 125 سے 140 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، لیکن اب صرف سات جہاز گزرے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی عالمی منڈی کے لیے تیل نہیں لے جا رہا تھا۔ امریکہ نے مزید 35 اداروں اور افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن پر ایران کے مالیاتی نظام میں خفیہ طور پر اربوں ڈالر منتقل کرنے کا الزام ہے۔