لوزیانا فائرنگ: باپ نے ۸؍ بچوں کاقتل کردیا، پولیس کے اقدام میں ملزم ہلاک
یہ واقعہ محض ایک جگہ تک محدود نہیں تھا بلکہ کم از کم تین سے چار مختلف مقامات پر پیش آیا، جن میں دو رہائشی گھر اور بعد میں کار جیکنگ کی جگہ شامل ہے۔ تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ فائرنگ سے پہلے ملزم نے ایک خاتون کو گولی ماری، جو ممکنہ طور پر اس کی بیوی یا ساتھی تھی۔ دو خواتین شدید زخمی ہوئیں، جن میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد ملزم نے ایک گاڑی چھین کر فرار ہونے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے بوسیئر سٹی کے قریب تعاقب کے دوران اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ ایک گھریلو تنازع سے جڑا ہوا ہے، اور بعض رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ملزم اپنی ازدواجی زندگی میں مسائل، ممکنہ علیحدگی اور عدالت کے معاملے سے گزر رہا تھا۔ مقامی حکام نے اس سانحے کو ’’خاندانی قتلِ عام‘‘ قرار دیا ہے، جو امریکہ میں گھریلو تشدد کے انتہائی خطرناک رخ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس ضمن میں شہر کے میئر ٹام ارسینئکس نے کہا کہ ’’یہ ایک المناک صورتحال ہے، شاید ہمارے شہر کی تاریخ کا بدترین سانحہ۔‘‘
دوسری جانب، امریکی قانون سازوں اور مقامی لیڈروں نے اس واقعے کے بعد گھریلو تشدد سے نمٹنے کے لیے مزید وسائل اور اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۶ء میں امریکہ میں ۱۱۰؍ سے زائد بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات ہو چکے ہیں، جبکہ اس سانحے کو حالیہ برسوں کے مہلک ترین واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف امریکہ میں بندوق کے تشدد کے بڑھتے ہوئے بحران کو اجاگر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ گھریلو تنازعات کس حد تک مہلک شکل اختیار کر سکتے ہیں۔