کمیشن نے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ ایسے مواد کو روکا جا سکے جو ’’انتخابی عمل کے خلاف غلط بیانیہ تیار کرتا ہے یا امن و امان میں خلل ڈال سکتا ہے۔‘‘ یہ کارروائیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت ریاستی نوڈل افسران کے ذریعے انجام دی جا رہی ہیں۔ انتخابی ضابطہ اخلاق ایسے رہنما اصولوں کا مجموعہ ہے جس پر سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور حکومتوں کو انتخابی مہم کے دوران عمل کرنا ہوتا ہے۔ اس میں تقاریر، جلسے، جلوس، منشور اور دیگر انتخابی سرگرمیوں کے لیے واضح حدود مقرر کی جاتی ہیں۔
الیکشن شیڈول کے مطابق، آسام، کیرالہ اور پدوچیری میں ۹؍ اپریل کو پولنگ ہو چکی ہے، جبکہ تمل ناڈو میں ۲۳؍ اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔ مغربی بنگال میں دو مرحلوں میں ۲۳؍ اور ۲۹؍ اپریل کو پولنگ ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی ۴؍ مئی کو کی جائے گی۔ کمیشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ایسے مواد پر تین گھنٹے کے اندر کارروائی کرنا لازمی ہوگا جسے گمراہ کن یا غیر قانونی سمجھا جائے، خاص طور پر اے آئی سے تیار کردہ یا تبدیل شدہ مواد پر۔‘‘
مزید برآں، سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ انتخابی مہم میں استعمال ہونے والے اے آئی مواد پر واضح لیبل لگائیں، جیسے ’’AI-generated‘‘، ’’digitally enhanced‘‘ یا ’’synthetic content۔‘‘ کمیشن نے زور دیا کہ ’’ابتدائی تخلیق کار یا ماخذ کو ظاہر کرنا بھی ضروری ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور ووٹرز کو گمراہ ہونے سے بچایا جا سکے۔‘‘ یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت میں انتخابی عمل کے دوران ڈجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، اور حکام کسی بھی قسم کی غلط معلومات یا مداخلت کو روکنے کے لیے سختی سے متحرک ہیں۔
