(اےیوایس)
ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ دونوں ممالک کے وفود کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
مذاکرات کے پیش نظر جمعرات کو اسلام آباد میں عام تعطیل ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے 10 اپریل کو بھی چھٹی کا اعلان کر رکھا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شریک ہونے کے لیے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد کے آج رات پاکستان پہنچنے کا امکان ہے جبکہ امریکی وفد کی آمد بھی رات تک متوقع ہے۔
اس سے قبل بدھ کو وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے میڈیا کو بتایا کہ امریکی وفد اسلام آباد روانہ کیا جا رہا ہے جو سنیچر کو ہونے والے مذاکرات میں حصہ لے گا۔ اس وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام کریں گے۔
اسلام آباد میں جمعرات کے روز امریکی سکیورٹی وفد اور معاون سٹاف پہنچ چکا ہے جو پاکستانی اداروں کے ساتھ مل کر مذاکرات کے انتظامات کو حتمی شکل دے رہا ہے۔
اب تک دستیاب معلومات کے مطابق امریکی اور ایرانی وفد کی آمد آج رات متوقع ہے، جس کے بعد مذاکرات کل سے شروع ہوں گے تاہم وفد کی تاخیر کی صورت میں یہ مذاکرات سنیچر تک جاری رہ سکتے ہیں۔
’فریقین مستقل جنگ بندی پر غور کریں گے‘
پاکستان کی وفاقی حکومت کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی کو مستقل جنگ بندی میں تبدیل کرنے پر بات چیت متوقع ہے، جس میں دونوں فریقین اپنے نکات پیش کریں گے۔
مذاکرات کے پیش نظر اسلام آباد میں دو روزہ تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے اور شہر میں سخت سیکیورٹی انتظامات نافذ کیے گئے ہیں۔ ریڈ زون میں صرف سرکاری گاڑیوں کے داخلے کی اجازت ہے جبکہ دیگر تمام سرگرمیاں معطل ہیں اور غیر متعلقہ افراد کو اندر داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔