امریکہ،ایران میں زمینی آپریشن کرنے پر غور کررہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ محدود کارروئی کرنے پر غور کررہا ہے حالانکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایسے کسی منصوبے کو منظوری نہیں دی گئی ہے۔ اس بیچ ، اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اگرچہ امریکہ ایران میں زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے تاہم نیتن یاہو کی فوج اس میں حصہ نہیں لے گی۔
خاص طور پر چینل 12 کی اس رپورٹ کو اس کشیدہ صورتحال میں ایک اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کو اس مشن میں اکیلے ہی اترنا ہوگا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف زمینی کارروائی شروع کی تو اسے یہ مشن تنہا کرنا پڑے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ اسرائیلی افواج زمین پر لڑائی میں شامل نہیں ہوں گی۔ تاہم، یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اسرائیل امریکہ کی فوجی موجودگی کے علاوہ دیگر ذرائع جیسے انٹیلی جنس اورتکنیکی تعاون سے مدد کرے گا۔
ماہرین کے مطابق اسرائیل کے موقف کی کئی ا سٹرےٹیجک وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ زمینی جنگ میں براہ راست ملوث ہونے سے خطے میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ مزید ، اسرائیل پہلے ہی اپنے سیکورٹی چیلنجز سے نبرد آزما ہے اور براہ راست کسی بڑی جنگ میں کودنے سے گریز کرنا چاہتا ہے۔
زمینی آپریشن کی تیاری
امریکہ نے مغربی ایشیا میں اپنے فوجیوں، جنگی جہازوں اور لڑاکا طیاروں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی جا سکے۔ پینٹاگون نے ایران کے خلاف ممکنہ زمینی کارروائی کے لیے آپشنز تلاش کیے ہیں لیکن ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ امریکہ نے خطے میں اپنے طیارہ بردار بحری جہاز اور بحری طاقت میں اضافہ کرکے دباؤ کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ یا امریکی انتظامیہ کی طرف سے ابھی تک کسی بڑی زمینی جنگ یا فوج کی تعیناتی کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔