خلیجی جنگ پرامن مذاکرات کے بیانیے اور تردید کے بیچ حملوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی اہداف پر حملے کیے ہیں۔اسرائیل نے بھی ایران پرحملے کیے ہیں۔بحرین اور کویت میں میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ادھر، امریکی اور اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کو15 نکاتی جنگ بندی کی تجویز پہنچا دی گئی ہے۔
15 نکاتی امن منصوبہ اور میڈیا کا دعویٰ
امریکی صدرٹرمپ کے ایران سے مذاکرات کے دعوؤں کے بعد جنگ کی تصویربدل گئی ہے۔ امریکہ کابیانیہ یکسر تبدیل ہوگیا ہے جبکہ ایران کی جانب سے باضابطہ مذاکرات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے ۔یعنی امن مذاکرات معمہ ہیں۔ اس بیچ امریکہ کا اسرائیلی میڈیا کی جانب سے ایران کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 15 نکاتی امن منصوبہ سونپے جانے کا دعویٰ بھی کیا جارہا ہے۔چینل 12 کی رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ایران کو 15 نکاتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے پہنچایا ہے۔ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ،امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے ۔انھوں نے مزید کہا درست لوگوں سے بات چیت جاری ہے۔نائب صدر جے ڈی وینس اوروزیرخارجہ مارکو روبیو بات چیت میں شامل ہیں۔ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے امریکہ کو تیل اور گیس سے متعلق ایک بہت اہم تحفہ دیا ہے۔
ایرانی فوج ٹرمپ کے دعوے کو کیا مسترد
امریکی صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کوایرانی فوج نے مسترد کردیا ہے۔ایرانی فوج کےخاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اپنی ناکامی کو معاہدہ قرار نہ دیں ۔آپ کے اندرونی اختلافات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ آپ خود سے ہی بات چیت کرنے لگے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ہم اپنے موقف پر قائم ہیں۔ہم آپ سے معاہدہ نہیں کریں گے۔
امریکہ کے بات چیت کے بیانیے سے بازار کوراحت ملی ہے ۔ بھلے ہی جنگ کے میدان میں اس کے مقاصد پورے نہ ہوسکے ہوں ۔ادھر، مذاکرات کی تردیدکرکے ایران امریکہ کی اہمیت کو کم کررہا ہے اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ امریکہ اور عالمی اقتصادیات پر بھی ضرب لگارہا ہے۔
مذاکرات کے تمام دعوؤں کے بیچ کچھ صاف نہیں ہے ۔تاہم اگر جنگ تھم جاتی ہے تو اس سے اچھی بات کچھ نہیں ہوسکتی ۔