رپورٹس کے مطابق، اس مہم میں مرد و خواتین سمیت بچے بھی حصہ لے رہے ہیں۔ کشمیری خواتین نے اپنے سونے کے زیورات، تانبے کے برتن اور گھر کا سامان عطیہ کیا۔ کچھ خاندانوں نے مویشی عطیہ کئے، جبکہ بچوں نے اپنی بچت اور جیب خرچ تک پیش کر دیا۔ مسجد امام زمان میں رضاکاروں نے عطیات جمع کرنے کیلئے اسٹالز لگانے کا اہتمام کیا۔ مقامی رہائشی محسن علی نے کہا کہ ”ہماری مائیں اور بہنیں سونے چاندی کے زیورات، تانبا اور نقد رقم دے رہی ہیں تاکہ ہم ایران کی مدد کرسکیں۔“
نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر کشمیری مسلمانوں کی اس حمایت کا اعتراف کرتے ہوئے جمع شدہ عطیات کی تصاویر شیئر کیں اور شکریہ ادا کیا۔ سفارت خانے نے اس بے لوث انسانی ہمدردی کے جذبے پر لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ مہربانی کبھی فراموش نہیں کی جائے گی۔“
۹۰؍ سالہ خاتون نے اپنی سونے کی انگوٹھی عطیہ کی
سب سے زیادہ متاثر کن عطیہ کشمیر کی ایک ۹۰ سالہ خاتون کی طرف سے سامنے آیا، جنہوں نے اپنی سونے کی انگوٹھی ایرانیوں کی مدد کیلئے پیش کی جو انہوں نے کئی دہائیوں سے سنبھال کر رکھی تھی۔ ان کے اس عمل کی کشمیریوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خوب ستائش کی جارہی ہے۔
ایک اور واقعے میں، ایک کشمیری بیوہ نے ایرانی عوام کی مدد کیلئے وہ سونا عطیہ کیا جو انہوں نے تقریباً ۲۸ سال سے اپنے مرحوم شوہر کی نشانی کے طور پر رکھا ہوا تھا۔ ایرانی سفارت خانے نے ان کے اس جذبے کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ ”خالص جذبات“ پر مبنی ایسے اقدامات مشکل وقت میں ہماری ڈھارس بندھاتے ہیں۔
ایرانی سفارت خانے کے ذریعے عطیات کو ایران بھیجا جائے گا
امدادی کوششوں کا یہ سلسلہ ایرانی سفارت خانے کی جانب سے ۱۴ مارچ کو جاری کردہ اپیل کے بعد شروع ہوا جس میں انسانی ہمدردی کے عطیات کیلئے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات شیئر کی گئی تھیں۔ تاہم، بعد ازاں مشن نے بینکنگ چینلز کے ذریعے فنڈز وصول کرنے میں لاجسٹک چیلنجز کا حوالہ دیا اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ نئی دہلی میں واقع سفارت خانے کے دفتر میں براہِ راست نقد عطیات جمع کرائیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر سے جمع ہونے والی تمام اشیاء اور فنڈز کو سفارت خانے کے ذریعے ایران بھیجا جائے گا تاکہ اسے متاثرہ اور مستحق شہریوں تک پہنچایا جاسکے۔ سفارت خانے نے اس امداد کیلئے اپنی ستائش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم آپ کی ہمدردی اور انسانیت کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ شکریہ، انڈیا۔“