اپنی تقریر میں اویسی نے صرف خارجہ پالیسی ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی اندرونی اقتصادی صورتحال پر بھی بات کی۔ انہوں نے ملک کی توانائی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنی ضرورت کا تقریباً ۶۰؍ فیصد گیس درآمد کرتا ہے اور اس کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے۔ موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں انہوں نے حکومت کے ’’آتمنیر بھر بھارت‘‘ کے دعوے کو چیلنج کیا اور کہا کہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) کے حوالے سے بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ ملک کے پاس صرف محدود دنوں کا ذخیرہ موجود ہے، جو کسی بڑے بحران کی صورت میں ناکافی ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بڑے دعوے کرتی ہے لیکن توانائی کے شعبے میں حقیقی خود انحصاری ابھی حاصل نہیں ہو سکی۔
تقریر کے دوران اویسی نے خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں ہندوستانیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان ممالک کی معیشت سے بھارت کو بڑی مقدار میں ترسیلات زر حاصل ہوتی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان ممالک کی اقتصادی صورتحال متاثر ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر ہندوستانی معیشت اور وہاں کام کرنے والے افراد پر پڑے گا۔ دوسری جانب سجاتا شرما جو وزارت پٹرولیم و قدرتی گیس میں جوائنٹ سیکریٹری ہیں، نے ایل پی جی کی صورتحال پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں سپلائی کی کوئی کمی نہیں ہے اور گھبراہٹ میں بکنگ کا رجحان کم ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں بڑی تعداد میں بکنگ کے باوجود اسٹاک کافی مقدار میں موجود ہے اور کسی علاقے میں قلت نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ خدشات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔ اسی دوران صنعتی ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے معیشت پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔