اقوام متحدہ کے ماہرین نے انسانی حقوق کے کارکن عمر خالد کی پانچ سالہ حراست کو غیر قانونی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی سیاسی اور سماجی سرگرمیاں بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت مکمل تحفظ رکھتی ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ نہ صرف خالد کو فوری رہا کیا جائے بلکہ انہیں مناسب معاوضہ بھی دیا جائے۔ اس معاملے میں ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن نے مارچ ۲۰۲۵ء میں اقوام متحدہ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ خالد کی حراست قانونی بنیاد سے محروم، امتیازی اور ان کے پرامن حقوق کے استعمال کی سزا ہے۔ درخواست میں منصفانہ ٹرائل کی خلاف ورزیوں، مبہم قوانین کے استعمال اور طویل قبل از مقدمہ حراست جیسے نکات بھی اٹھائے گئے۔
اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے اپنے طریقہ کار کے تحت ہندوستانی حکومت سے وضاحت طلب کی، تاہم رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن کی نمائندہ ہانا وان ڈجکے نے کہا، ’’یہ رائے واضح کرتی ہے کہ عمر خالد کی حراست کے لیے کبھی کوئی مضبوط قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔ ہزاروں صفحات پر مشتمل الزامات کے باوجود یہ کیس بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی مثال ہے۔‘‘ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہندوستان میں شہری آزادیوں، احتجاج کے حق اور طویل عدالتی عمل جیسے مسائل پر بین الاقوامی سطح پر بحث جاری ہے، اور اس فیصلے سے اس بحث کو مزید تقویت ملنے کا امکان ہے۔