علی لاریجانی کے قتل کا انتقام لیتے ہوئے ایران نے رات بھر میں ۱۰۰؍ سے زائد میزائل داغے ، کلسٹر بموں کا استعمال ،تل ابیب کی کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کا سیاسی نظام مضبوط ہے۔ وہ ان حملوں کا بھرپور جواب دیگا۔ایران کے میزائل حملے میں تل ابیب کے مضافات میں واقع رمات گن میں ایک عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور دو افراد ہلاک ہوگئے۔ ایرانی میزائل اسرائیلی شہر بیت شیمش میں فوجی تنصیبات تک پہنچ گئے تھے۔ اسرائیلی میڈیا نے بھی ایرانی میزائلوں سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق بیت شیمش پر میزائل حملے سے متعدد عمارتیں نشانہ بنیں اور کئی اہم فوجی عمارتیں تباہ ہو گئیں، ان حملوں میں جانی نقصان کی بھی اطلاعات ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق بیت شیمش میں میڈیکل کور اور فوجی بھرتی مراکز بھی حملے کی زد میں آئے ہیں۔، ریسکیو ٹیمیں امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ فوجی سامان اور لاجسٹک سائٹس بھی بیت شیمش کے اس علاقے میں ہیں۔ایران کے ان حملوں کے بعد وسطی اسرائیل میں ہنگامی صورتِ حال اور سیکوریٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی ملٹری نے ۳؍ ایرانی میزائلوں کے بین گوریاں ایئر پورٹ تک پہنچنے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہےکہ ان کی وجہ سے ایئر پورٹ کے ایک حصہ کو نقصان پہنچا ہے اور وہاں قریب ہی کھڑے ۳؍ ہوائی جہازوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
دریں اثناء ایرانی وزارت صحت کے مطابق ۲۸؍فروری سے جاری حملوں میں اب تک ایک ہزار ۴۰۰؍سے زائد افراد جاں بحق اور ۱۸؍ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں جزوی طور پر جہازوں کی آمد و رفت بحال ہو گئی ہے تاہم تیل کی ترسیل اور پیداوار شدید متاثر ہے۔اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران میں اہم فوجی تنصیبات اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا ہے لیکن اس سے کتنا نقصان ہوا ہے اس کی تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔