(اےیوایس)
دبئی ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث ایئرپورٹ پر ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی اور پروازوں کی لینڈنگ معطل کر دی گئی۔ یہاں آنے والی پروازوں کو فضا میں ہولڈنگ پیٹرن میں رکھا گیا ہے
مقامی لوگوں نے بتایا کہ رات کے سناٹے میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ہوائی اڈے کے قریب دھواں اور آگ کے شعلے اٹھتے دیکھے گئے۔ دبئی سول ڈیفنس اور دیگر ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور آگ بجھانے کا کام شروع کردیا۔ دبئی میڈیا آفس نے ’ایکس‘ پر بتایا کہ ٹیمیں آگ پر قابو پانے کی مسلسل کوششیں کر رہی ہیں فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ اگرچہ نقصان بہت زیادہ دکھائی دے رہا ہے، تاہم جانی نقصان نہ ہونے سے حکام نے راحت کی سانس لی ہے۔
ڈرون حملے سے فضائی ٹریفک پر بھی بھاری اثر پڑا ہے۔ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار‘ کے مطابق دبئی آنے والی کئی پروازوں کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔ کراچی، کھٹمنڈو، ہنوئی، اسمارہ اور عمان سے دبئی پہنچنے والی کم از کم 5 پروازیں ہوائی اڈے پر اترنے کا انتظار کرتی رہیں۔ اس وجہ سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ مرکزی ہوائی اڈے پر بھی حملہ ہوا ہو گا۔ حالانکہ ممکن ہے کہ ڈرونز سے بچانے کے لیے طیاروں کو نہ اترنے دیا جارہا ہو۔
اس واقعے سے قبل ایران نے دبئی اور دوحہ (قطر) کے بعض علاقوں کے رہائشیوں کو چند گھنٹوں میں حملے کے خدشے کے پیش نظر فوری طور پر وہاں سے نکل جانے کی تنبیہ کی تھی۔ ایران کے میڈیا آپریشنز سینٹر اور سرکاری پریس ٹی وی کی رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان علاقوں میں امریکی فوجی اہلکار موجود ہیں۔ اس لیے انہیں ممکنہ نشانہ بنایا گیا۔ اتوار کے روز ایرانی حکام نے متحدہ عرب امارات کی مصروف ترین بندرگاہ اور دو دیگر بندرگاہوں کی تنصیبات کے آس پاس کے علاقوں کو خالی کرنے کی بھی وارننگ دی تھی۔ اب دبئی ائیر پورٹ کے قریب لگنے والی آگ نے ان خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔