مغربی ایشیا میں کشیدگی کے سبب تیل اور توانائی کی سپلائی پر اثرپڑا ہے۔ایل پی جی سلنڈر کی سپلائی متاثر ہوئی ہے جس کا براہ راست اثر ملک بھر میں ہوٹل انڈسٹریز، ریسٹورنٹس اورڈھابوں پر دیکھا جارہا ہے۔کمرشیل سلنڈروں کی کمی کے سبب بدھ کے روز دہلی میں کم از کم 12 ریسٹورنٹس اور فوڈ جوائنٹس مالکان کو کاروبار عارضی طور پر بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ سلنڈر کی محدود سپلائی کی وجہ سے دیگرریسٹورنٹس مالکان کوبھی مشکلات کا سامنا ہے۔
ریسٹورنٹ مالکان کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے کمرشل سلنڈر کی سپلائی محدود ہوگئی ہےجس کی وجہ سے کئی ریسٹورنٹس بند ہو گئے ہیں۔ اس انڈرسٹری سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر سپلائی جلد معمول پر نہ آئی تو آنے والے دنوں میں مزید ریسٹورنٹس متاثر ہو سکتے ہیں۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، انڈیگو ہاسپیٹلیٹی کے بانی انوراگ کٹیار کا کہنا ہے کہ بہت سے ریسٹورنٹس انڈکشن یا الیکٹرک کوکنگ جیسے متبادل کا سہارا لے کر اگلے ایک یا دو دنوں میں دوبارہ کام شروع کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
’ 5000 روپے میں بلیک ہورہاایل پی جی سلنڈر‘
اس بیچ ، ایک ریسٹورنٹ کے مالک گگن دیپ سنگھ سپرا نے سوشل میڈیا پر بلیک مارکیٹنگ کے سنگین الزامات لگائے ہیں۔ اکنامک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، گگن دیپ نے لکھا کہ وہ بھی گیس کی قلت کی وجہ سے اپنا ریسٹورنٹ بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور بلیک مارکیٹ میں ایک سلنڈر کی قیمت 5000 روپے سے زیادہ وصول کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ سرکاری سپلائی نہ ہونے پر سلنڈر کہاں سے آ رہے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی ہے۔
بحران صرف ایل پی جی تک ہی محدود نہیں ہے۔ بہت سے ریسٹورنٹس عام طور پر پائپڈ نیچرل گیس (PNG) پر انحصار کرتے ہیں، لیکن اب اسے بھی منقطع کردیاگیا ہے۔ دریا گنج ہاسپیٹلیٹی کے شریک بانی امت بگا کے مطابق، اندر پرستھا گیس لمیٹڈ نے صنعتی اورکمرشیل صارفین کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی عام گیس کی کھپت کا صرف 80 فیصد فراہم کریں گے۔
اس سے کئی ریسٹورنٹ متاثر ہوئے ہیں۔ پہاڑ گنج میں کشمیر چُرچُر نان کے مالک مہر ٹنڈن کے مطابق، گیس کی قلت کی وجہ سے ان کا ریسٹورنٹ بھی بند کرنا پڑا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ریسٹورنٹ کو عام طور پر روزانہ تین سے چار ایل پی جی سلنڈر کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن پچھلے کچھ دنوں سے وہ صرف ایک سلنڈر سے انتظام کر رہے ہیں اور اب اسٹاک مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔