انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کو ٹکڑوں میں بانٹ کر اس کے تیل کی دولت پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ترجمان وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کا اصل مقصد ہماری خودمختاری کی خلاف ورزی، ہماری قوم کو شکست دینا اور ہماری انسانیت کو کمزور کرنا ہے۔ اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران نے موجودہ حالات میں سفارت کاری کے بجائے بقا کو ترجیح دی ہے۔ ان کے مطابق یہ ہماری پسند کی جنگ نہیں بلکہ ایک ایسی جنگ ہے جو ہم پر مسلط کی گئی ہے اور جسے ہم مجبوری کے تحت لڑ رہے ہیں۔
تیل کی بڑھتی قیمتوں کے ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہیں: ایران
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران عام امریکیوں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عام امریکیوں نے غیرملکی جنگوں میں مہنگی شمولیت ختم کرنے کیلئے ووٹ دیا، توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہیں، امریکیوں کی جمع پونجی، ریٹائرمنٹ فنڈز کی بربادی کے ذمہ دار اسرائیل اور واشنگٹن میں بیٹھے حامی ہیں۔
وزیرخارجہ نے امریکی آپریشن ایپک فیوری کو ایپک مسٹیک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کی وجہ سےعالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دگنی ہوچکی ہیں اس جنگ کی وجہ سےتمام اشیاکی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں، امریکہ مہنگائی کے بڑے جھٹکے سے بچنے کےلیے ہمارے تیل اور ایٹمی مراکز کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران تمام خطرات کا مقابلہ کرنے کےلیے مکمل تیار ہے ہمارے پاس دشمن کوحیران کرنے کےلیے ابھی بہت سے سرپرائز باقی ہیں۔ عالمی میڈیا میں یہ خبریں آرہی ہیں کہ امریکہ ایران کے یورینیم پر قبضے کیلئے اسپیشل آپریشن پر غور کر رہا ہے۔ بلوم برگ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ایران کے یورینیم کو قبضے میں لینے کیلئے اسپیشل فورسز بھیجنے کے آپشن پر غور ہیں۔
خبر ایجنسی روئٹرس کے مطابق ۳؍سفارتی عہدیداروں نے ممکنہ منصوبے سے متعلق بریفنگ کی تصدیق کی ہے۔ ایکسیوس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل یورینیم قبضے میں لینے کیلئے مشترکہ کارروائی پر غور کر رہے ہیں، امریکہ اور اسرائیل کا تقریباً۴۵۰؍ کلوگرام یعنی ۶۰؍ فیصد یورینیم ہدف ہے کیونکہ ۶۰؍ فیصد یورینیم چند ہفتوں میں ایٹمی ہتھیاروں کے درجے تک پہنچ سکتا ہے۔