امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں۔ ان کے کچھ مشیروں نے حال ہی میں مشورہ دیا ہے کہ وہ امریکہ کو ایران جنگ سے نکالنے کے لیے عوامی سطح پر حکمت عملی پیش کرنا شروع کر دیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق اس معاملے سے واقف کاروں کا کہنا ہے کہ مشیروں کا خیال ہے کہ امریکی فوج نے اپنے بیشتر مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔ مشیروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب ایگزٹ پلان بنایا جائے ۔ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو اس سے جڑے خطرات بڑھیں گے۔
جنگ کا خاتمہ کیوں ضروری ؟
ایران جنگ کے بعد اقتصادی خدشات نے بھی اس بحث کو تیز کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے کچھ مشیر اس وقت فکرمند ہو گئے جب عالمی توانائی کی سپلائی میں خلل پڑنے کے خدشات کے درمیان تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بڑھ گئیں۔ اطلاعات کے مطابق کئی ریپبلکن قانون سازوں نے بھی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس جنگ سے آنے والے وسط مدتی انتخابات پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کسی بھی امریکی صدر نے جو جنگ لڑی ہے وہ الیکشن نہیں جیت سکا۔ چونکہ ٹرمپ نے ابھی اپنی مدت کا آغاز کیا ہے، اس لیے انھیں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
ان رپورٹوں کے درمیان ٹرمپ نے کھلے عام عندیہ دیا ہے کہ جنگ زیادہ دیر نہیں چلے گی۔ پیر کو میامی کے قریب اپنے گولف کلب میں ریپبلکن قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی کارروائی کو ایک محدود کارروائی بتایا۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ایران نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی تو امریکہ سخت کارروائی کر ے گا۔ انہوں نے ٹروتھ سوشل پر یہ بھی لکھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں تیل کی سپلائی روکتا ہے تو اسے 20 گنا زیادہ طاقت سے نشانہ بنایا جائے گا۔