دوسری خبر حکومت کے اٹارنی جنرل پام بونڈی کا بیان درج ہونا ہے۔ بونڈی پر غائب دستاویزات کو لے کر گمراہ کرنے کا الزام ہے۔ ان کا بیان سرکردہ کانگریس کمیٹی کے سامنے درج ہونا ہے۔ بونڈی کمیٹی کے سامنے وہ راز اگل سکتی ہیں جو اب تک منظرنامہ سے غائب بتائے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے ڈونالڈ ٹرمپ کے لئے یہ مشکل میں ڈالنے والا ثابت ہو سکتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کے پاس ایپسٹین فائلز سے متعلق مجموعی طور پر ۶؍ لاکھ دستاویزات ہیں۔ ان میں سے اب تک ۳؍لاکھ دستاویزات ہی جاری کیے گئے ہیں۔ عدالت کی ہدایت کے بعد محکمہ انصاف کو ۳؍ لاکھ مزید دستاویزات جاری کرنے ہیں اور وہ یہ کام جلد کردے گا۔ اب محکمہ انصاف نے تقریباً ۵۰؍ ہزار دستاویزات کو جاری کرنے کی تیاری کر لی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جو دستاویزات جاری ہونے والے ہیں، اسے پہلے غائب بتایا جا رہا تھا لیکن امریکی کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ کی سختی کے بعد محکمہ انصاف نے اسے جاری کرنے کے لیے پیش قدمی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگلے ہفتہ تک ان سبھی دستاویزات کو جاری کیا جاسکتا ہے۔ایپسٹین فائلز کے ان دستاویز میں صدر ٹرمپ کے تعلق سے بھی دستاویز ہونے کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ ٹرمپ ایک وقت میں جنسی استحصال کے مجرم جیفری ایپسٹین کے دوست تھے۔