ایران اسرائیل جنگ : ٹرمپ ایران میں زمینی حملے سے کیوں ہچکچا رہے ہیں؟ 1979 کے صحرا کا وہ زخم جو امریکہ آج بھی نہیں بھولا

(اےیوایس)

Iran-Israel War : The Desert Wound of 1979 That America Still Hasn’t Forgotten

 ایران میں زمینی حملہ؟ 1979 کے زخم کا خوف

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے ایران پرحملے جاری ہیں۔ ایرانی اہداف پر فضائی حملوں اور میزائل باری کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا امریکہ ایران میں زمینی افواج بھیجنے جا رہا ہے؟

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ  نے حالیہ بیان میں کہا کہ انہیں ایران میں گراؤنڈ فورس تعینات کرنے کی فوری ضرورت نظر نہیں آتی۔ اگرچہ انہوں نے دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا، مگر واضح کیا کہ زمینی حملہ شاید ضروری نہ ہو۔

سوال یہ ہے کہ جب امریکہ اپنے مقاصد مکمل کرنے کی بات کر رہا ہے تو پھر زمینی کارروائی سے ہچکچاہٹ کیوں؟ اس کا جواب 47 سال پرانے ایک زخم میں پوشیدہ ہے، جو آج بھی امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ذہن میں تازہ ہے۔

1979 کی ایرانی انقلاب اور امریکہ کی رسوائی

1978-79 میں ایران میں شدید سیاسی بحران پیدا ہوا۔ شاہ محمدرضاپہلوی (Mohammad Reza Pahlavi)کے خلاف عوامی احتجاج بڑھتے گئے۔ وہ امریکہ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے تھے۔ بالآخر 1979 میں شاہ کو ملک چھوڑنا پڑا اور فروری میں روح اللہ خمینی (Ruhollah Khomeini) جلاوطنی ختم کرکے ایران واپس آئے اور اسلامی انقلاب کامیاب ہوا۔

نئی ایرانی حکومت نے امریکہ کو ’’عظیم شیطان‘‘ قرار دیا۔ کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب امریکی صدر جمی کارٹر (Jimmy Carter) نے اکتوبر 1979 میں شاہ کو کینسر کے علاج کے لیے امریکہ آنے کی اجازت دی۔ ایران میں اسے امریکی مداخلت کی علامت سمجھا گیا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *