روس کا برطانیہ اور فرانس پر یوکرین کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا سنگین الزام
روسی صدر پوتن نے اپنے بیان میں یوکرین پر امن عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا۔ جنگ کے پانچویں سال میں داخل ہونے پر جی سیون ممالک کے رہنماؤں، جن میں امریکی صدر ٹرمپ بھی شامل ہیں، انہوں نے یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔یوروپی کمیشن کی صدر ارسلا وندیر لئین نے کہا کہ یوروپی یونین یوکرین کے لیے مالی امداد کی فراہمی یقینی بنائے گی۔دوسری جانب روسی افواج یوکرین کے مختلف علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے توانائی کے نظام اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور مغربی انٹیلی جنس کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین اور اس کے اتحادی جس حد تک جا رہے ہیں اس پر انھیں پچھتانا پڑے گا۔ روسی انٹیلی جنس سروس ایس وی آر سے خطاب میں صدر پوتن نے کہا کہ مخالفین جانتے ہیں کہ اگر انھوں نے جوہری عنصر استعمال کیا تو اس کا انجام کیا ہوگا، روسی توانائی تنصیبات پر حملوں کی دھمکیوں سے یوکرین امن عمل تباہ کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ روس کے خلاف دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے، جس میں یوکرینی اور مغربی انٹیلی جنس ایجنسیاں ملوث ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل روسی انٹیلی جنس سروس نے کہا تھا کہ برطانیہ اور فرانس یوکرین کو جوہری ہتھیاروں کے پرزے اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی تیاری میں ہیں۔ روسی میڈیا کے مطابق روس کی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس نے منگل کو کہا تھا کہ لندن اور پیرس میں حکام خفیہ طور پر ایسے اجزا، آلات اور ٹیکنالوجیز بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جن کے ذریعے آبدوز سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل تیار کیا جاسکے، جو تھرمو نیوکلیئر وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ روسی خفیہ ایجنسی نے اشارہ دیا کہ مبینہ جوہری ہتھیار یوکرین کو امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات میں برتری فراہم کر سکتا ہے۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس رپورٹ پر کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کے تمام ضوابط اور اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے اور عدم پھیلاؤ کے پورے نظام کے لیے ایک خطرہ قرار ہے۔