ذہین نشین رہے کہ جمعہ کو جاری ہونے والے ایک پوڈ کاسٹ میں ہکابی نے کہا تھا کہ ،’’یہ ٹھیک ہوگا اگر اسرائیل تمام مشرق وسطیٰ پرقبضہ کر لے ۔ ہکابی نےدلیل دی کہ خدا نے حضرت ابرہیم کے ذریعے یہ علاقہ یہودیوں کو دیا ہے۔ ہکابی نے یہ تبصرہ امریکی صحافی ٹکر کارلسن کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا، ساتھ ہی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی کارروائیوں کا دفاع کیا ۔ بعد ازاں ایک بیان میں اردن کی وزارت خارجہ نے ان تبصروں کو ’’غیر حقیقی اور اشتعال انگیز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ،’’یہ سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی، خطے کی ریاستوں کی خودمختاری کی خلاف ورزی، اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘‘
جبکہ مصر کی وزارت خارجہ نے ان بیانات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں سے واضح انحراف قرار دیا۔اس کے علاوہ سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بھی ’’شدید ترین الفاظ میں‘‘ مذمت کی اور ہکابی کےتبصرے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔کویت کی وزارت خارجہ نے بھی امریکی سفیر کے ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون اور متعلقہ بین الاقوامی قانونی قراردادوں کی واضح خلاف ورزی ہیں۔عراق کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ تبصرہ ایک سنگین زیادتی ہے جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں سے متصادم ہے اور ریاستوں کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔اس کے علاوہ عمان کی وزارت خارجہ نے بھی ان تبصروںکی مذمت کرتے ہوئے انہیں عرب سرزمینوں بشمول مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر قبضہمسلط کرنے کی غیر قانونی جوازقرار دیا۔