امریکہ 22 فروری تک ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟ ٹرمپ کے فیصلے کا انتظار، دنیا خوفزدہ

(اےیوایس)

مسقط اور جنیوا مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی جس کے بعد ایران پر ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے ۔میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ امریکہ جلد ہی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیاگیا ہے۔ایکسیوس کے مطابق، بدھ کے روز اس تعلق سے امریکی صدر ٹرمپ نے میٹنگ کی۔اس اجلاس میں ایران کے ساتھ ہوئے جوہری مذاکرات کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کو جانکاری دی گئی اور آئندہ کے اقدامات پر بات چیت ہوئی۔ وائٹ ہاؤس میں اس معاملے پر مشاورت جاری ہے۔ فوجی کارروای سے منسلک خطرات، ردعمل اور حملے کے سیاسی و عسکری نتائج پر غور کیا جا رہا ہے۔

ایران۔روس مشترکہ بحری مشقیں اس بیچ،ایران اور روس نے مشترکہ بحری مشقوں کا آغا ز کردیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مشقیں شمالی بحرِ ہند اوربحرعمان میں ہورہی ہیں ۔ ریئر ایڈمرل حسن مقصودلو کا کہنا ہے کہ ایران اور روس کی مشترکہ بحری مشقوں کا مقصد خطے میں کسی یکطرفہ فوجی کارروائی کو روکنا ہے۔اس کے ساتھ سمندری سلامتی کو درپیش خطرات بشمول تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کو لاحق خطرات کے خلاف ہم آہنگی کو بڑھانا ہے۔
’حملے کے ہوں گے سنگین نتائج‘ ادھر،روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے متنبہ کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی نئے امریکی حملے کے سنگین نتائج ہوں گے۔ روس کہنا ہے کہ مسئلے کا حل تحمل سے نکالاجانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ کشیدگی میں اضافہ ایران اور پڑوسی ریاستوں بالخصوص سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں حالیہ بہتری کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *