(اےیوایس)
مسقط اور جنیوا مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی جس کے بعد ایران پر ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے ۔میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ امریکہ جلد ہی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیاگیا ہے۔ایکسیوس کے مطابق، بدھ کے روز اس تعلق سے امریکی صدر ٹرمپ نے میٹنگ کی۔اس اجلاس میں ایران کے ساتھ ہوئے جوہری مذاکرات کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کو جانکاری دی گئی اور آئندہ کے اقدامات پر بات چیت ہوئی۔ وائٹ ہاؤس میں اس معاملے پر مشاورت جاری ہے۔ فوجی کارروای سے منسلک خطرات، ردعمل اور حملے کے سیاسی و عسکری نتائج پر غور کیا جا رہا ہے۔
ایران۔روس مشترکہ بحری مشقیں اس بیچ،ایران اور روس نے مشترکہ بحری مشقوں کا آغا ز کردیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مشقیں شمالی بحرِ ہند اوربحرعمان میں ہورہی ہیں ۔ ریئر ایڈمرل حسن مقصودلو کا کہنا ہے کہ ایران اور روس کی مشترکہ بحری مشقوں کا مقصد خطے میں کسی یکطرفہ فوجی کارروائی کو روکنا ہے۔اس کے ساتھ سمندری سلامتی کو درپیش خطرات بشمول تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کو لاحق خطرات کے خلاف ہم آہنگی کو بڑھانا ہے۔