اس دوران ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے امریکی دھمکیوں پر روشنی ڈالی ان کا کہنا تھا کہ ’’امریکی صدر مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ان کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے، انہوں نے ایران کی طرف جنگی جہاز بھیج دیے ہیں۔ بہت اچھا… ایک طیارہ بردار جہاز یقیناً ایک خطرناک اثاثہ ہے، لیکن اس جہاز سے بھی زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اس جہاز کو سمندر کی تہہ تک پہنچا سکتا ہے، دنیا کی سب سے طاقتور فوج کو کبھی ایسا زبردست دھچکا لگ سکتا ہے کہ وہ دوبارہ کھڑی نہ ہو سکے۔ ‘‘
واضح رہے کہ امریکہ دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے، جہاں یو ایس ایس ابراہم لنکن پہلے سے موجود ہے۔اس کے علاوہ امریکی فوج کی ایک بڑی تعداد بھی ایران کے اطراف تعینات ہے، اس سے یہ نتیجہ نکالا جارہا ہے کہ یہ ڈونالڈ ٹرمپ کی حکمت عملی ہے تاکہ ایران کو اس کے جوہری پروگرام (اور ممکنہ طور پر میزائل پروگرام) پر معاہدے پر مجبور کیا جا سکے۔ جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے ایک دن بعد ٹرمپ نے نامہ نگاروں سے کہا تھا کہ ،’’ہمیں ایک معاہدہ کرنا ہوگا، ورنہ یہ بہت تکلیف دہ ہوگا۔ میں ایسا نہیں ہونے دینا چاہتا، لیکن ہمیں معاہدہ کرنا ہوگا۔ اگر انہوں نے معاہدہ نہ کیا تو یہ ایران کے لیے بہت تکلیف دہ ہوگا۔‘‘
یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ سال جولائی میں، امریکہ، جو جنگ زدہ ممالک کے درمیان امن قائم کروا رہا تھا، نے ایران پر حملہ کیا اور اس کی جوہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا۔ مذاکرات اور معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے مزید کہا، ’’ہم دیکھیں گے کہ کیا ہم ان کے ساتھ معاہدہ کر سکتے ہیں، اور اگر نہیں کر سکے تو ہمیں دوسرے مرحلے میں جانا پڑے گا۔ دوسرا مرحلہ ان کے لیے بہت مشکل ہوگا۔‘‘