پارلیمانی اراکین نے راہل گاندھی کو ایوان میں اس کتاب کا حوالہ دینے پر سخت اعتراض کیا اور اسپیکر اوم برلا نے بار بار انہیں روکا، اس بنیاد پر کہ کتاب شائع نہیں ہوئی ہے اور اس کا حوالہ دینا قواعد کے خلاف ہے۔ دفاع اور داخلی امور کے وزیر، راج ناتھ سنگھ اور امیت شاہ بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایوان میں بحث کو روکنے کی کوشش کی۔ یاد رہے کہ کل یعنی منگل کو بھی راہل گاندھی نے ایوان میں ایک اخبار پر شائع اس یادداشت کے اقتباسات پڑھنے کی کوشش کی، جس پر واک آؤٹ اور پارلیمانی ہنگامہ ہوا، جس کے بعد لوک سبھا کے اجلاس بار بار ملتوی کیے گئے۔ مخالف ارکان نے اسپیکر کے ڈائس کے سامنے کاغذات پھینکے، جس کے بعد آٹھ اپوزیشن ممبران کو معطل کر دیا گیا۔ پارلیمنٹ کے باہر بھی احتجاج ہوا، جہاں کانگریس ارکان نےPM is compromised جیسے پوسٹر اٹھائے اور حکومت پر شفافیت نہ رکھنے کا الزام لگایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت ان حقائق سے خوفزدہ ہے جو اس کتاب میں درج ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ وہ اسے ایوان میں پیش نہیں ہونے دے رہی ہے۔
اس مسئلے نے ایک سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے کیونکہ جنرل نرونے کی کتاب Four Stars of Destiny کئی آن لائن ریٹیل پلیٹ فارمز جیسے امیزون اور فلپ کارٹ سے اچانک غائب ہو گئی ہے، جس نے افواہوں اور سیاسی تنازع کو مزید ہوا دی ہے۔ اس اقدام نے بڑھتی سیاسی بحث میں نئی جہت پیدا کی ہے، بغیر واضح وضاحت کے کہ کتاب کیوں دستیاب نہیں ہے۔ یہ واقعہ قومی سلامتی، سیاسی جوابدہی اور شفافیت پر نئے سوالات اٹھا رہا ہے۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ عوام کو حقائق جاننے کا حق ہے جبکہ حکمران جماعت کا مؤقف ہے کہ ایسی غیر مطبوعہ دستاویزات کو ایوان میں پیش کرنا مناسب نہیں۔ دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں اور سیاسی محاذ پر بحث جاری ہے، جس سے آنے والے دنوں میں اس موضوع پر مزید سیاسی اور عوامی مباحثے کی توقع کی جا رہی ہے۔