واقعے کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا، جس میں دیپک کمار ہجوم سے سوال کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اگر دیگر دکانیں بھی ’’بابا‘‘ نام استعمال کر رہی ہیں تو صرف ایک مسلم دکاندار کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ دکان گزشتہ ۳۰؍ برس سے قائم ہے اور اس کا نام اچانک تبدیل کرنے کا مطالبہ ناانصافی ہے۔ پولیس نے دیپک کمار اور وجے راوت کے خلاف مختلف تعزیراتی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جبکہ ایف آئی آر میں متعدد نامعلوم افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی جانچ جاری ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
بعد ازاں دیپک کمار نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ انسانیت اور آئینی مساوات کے حق میں آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود کو سب سے پہلے ایک انسان سمجھتے ہیں اور مذہبی بنیاد پر امتیاز کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس واقعے پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی صارفین نے ایف آئی آر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہراسانی کی مخالفت کرنے والوں کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعت کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے بھی معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئین اور بھائی چارے کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔خیال رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں مذہبی شناخت، کاروباری آزادی اور شہری حقوق سے متعلق معاملات حساس بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے نے ایک بار پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار اور سماجی ہم آہنگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
