برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف کئی آپشنز پر غور کر رہے ہیں جن میں مظاہرین کی حوصلہ افزائی کے لیے ایرانی سکیورٹی فورسز اور رہنماؤں پر فضائی حملے بھی شامل ہیں، جبکہ اسرائیلی اور عرب حکام کا کہنا ہے کہ صرف فضائی حملوں سے وہاں کی مذہبی حکومت کا خاتمہ نہیں ہو گا۔
ایران کے حوالے سے ہونے والی مشاورت سے واقفیت رکھنے والے دو ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ’حکومت کی تبدیلی‘ کے لیے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں جہاں ملک گیر احتجاج کی لہر کو کچلنے کے لیے سخت کریک ڈاؤن کیا گیا جس میں ہزاروں لوگ مارے گئے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے لیے صدر ٹرمپ ان کمانڈرز اور اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے آپشنز ڈھونڈ رہے ہیں جو واشنگٹن کی نظر میں تشدد کے ذمہ دار ہیں۔
اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ مظاہرین کو یہ یقین دلایا جائے کہ وہ حکومت اور سکیورٹی سے متعلق عمارات پر قابو پا سکتے ہیں۔
ان امریکی ذرائع میں سے ایک نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس ضمن میں مختلف آپشنز پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں، جن میں ایک بہت بڑا اور مؤثر حملہ بھی شامل ہے جو ممکنہ طور پر بیلیسٹک میزائل پر ہو سکتا ہے جو کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اتحادیوں تک رسائی رکھتے ہیں، یا پھر یہ حملہ ایرانی کی جوہری تنصیباب پر بھی ہو سکتا ہے۔
اسی طرح دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی صدر ٹرمپ نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے کہ اقدام میں فوجی کارروائی شامل ہو گی یا نہیں۔
رواں ہفتے مشرق وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور معاون جنگی جہازوں کی آمد نے صدر ٹرمپ کی ممکنہ فوجی کارروائی کی صلاحیت کو بڑھا دیا ہے جبکہ اس سے قبل انہوں نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر ایران کو کئی بار مداخلت کی دھمکی دی تھی۔
جن ممالک کو مشاورت کے حوالے سے بریف کیا گیا ہے ان کے بارے میں تین مغربی سفارتکاروں اور ایک ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ چار عرب حکام اس بار پر فکرمند ہیں کہ کہ لوگوں کو سڑکوں پر لانے کے بجائے اس قسم کے حملوں سے تحریک کمزور ہو گی جو پہلے 1979 کے انقلاب کے بعد سے حکام کے ظلم کا نشانہ ہے۔