(اےیوایس)
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں وادی تیراہ سے آنے والے آئی ڈی پیز کو موسم کی خرابی کے باعث ایک اور آزمائش کا سامنا ہے۔
گذشتہ دو روز سے برف باری کی وجہ سے نہ صرف شاہراہیں بند ہیں بلکہ گھروں سے نکلنے والے متاثرین کی گاڑیاں بھی پھنس گئی ہیں۔
ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق جمعرات کی رات سڑکوں پر پِھسلن اور برف زیادہ پڑنے کے باعث آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔
برف باری کی وجہ سے متاثرین نارے بابا، دوا توئے، پائندہ چینہ، ننگروسہ اور تختکی کے مقام پر پھنس گئے تھے۔ریسکیو 1122 نے موسم کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر امدادی آپریشن شروع کردیا ہے۔
ترجمان ریسکیو 122 بلال احمد فیضی نے بتایا کہ ’ابتدائی طور پر گاڑیوں میں موجود تمام افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے جس کے بعد مشینری کی مدد سے پھنسی ہوئی گاڑیوں کو نکالنے کے لیے آپریشن کیا گیا۔‘
برف باری میں پھنسے ہوئے افراد کی مدد کے لیے خیبر، پشاور اور صوابی کی ٹیمیں بھی متاثرہ مقام پر پہنچ گئی تھیں۔
ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق ’جمعرات کی رات مختلف مقامات سے 55 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل تھے جبکہ برف میں پھنسی ہوئی 20 سے زیادہ گاڑیوں کو بھی نکالا گیا۔‘
ضلعی انتظامیہ کا مؤقف
ضلع خیبر میڈیا سیل نے اپنے بیان میں بتایا کہ ’برف باری میں پھنسے آئی ڈی پیز کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعرات کی رات پھنسے ہوئے افراد کو پائندہ چینہ سکول اور ہاسٹل منتقل کردیا گیا ہے۔ تمام متاثرین کو کمبل، بچوں کو سویٹر اور خوراک فراہم کی گئی ہے۔‘
’امدادی سرگرمیاں ننگروسہ، دوہ توئی سے لرباغ تک جاری ہیں جبکہ دیگر شاہراہوں پر کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں ریسکیو 1122، پولیس، فرنٹیئر کور اور فوج کے جوان حصہ لے رہے ہیں۔‘
ضلع خیبر میڈیا سیل کے مطابق برف باری تھم جانے کے بعد پھنسی ہوئے گاڑیوں کو نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔
ریسکیو آپریشن کی نگرانی کے لیے تیراہ میں صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی، معاون خصوصی اطلاعات شفیع جان اور رکن اسمبلی عبدالغنی آفریدی موجود تھے۔ انہوں نے نہ صرف ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی بلکہ امدادی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’وزیراعلٰی سہیل آفریدی اس ساری صورتِ حال کا خود جائزہ لے رہے ہیں اور تمام سرکاری مشینری متاثرہ مقامات پر موجود ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’صوبائی حکومت اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لاکر تیراہ کے متاثرین کی تکالیف کو کم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے، برف باری میں پھنسے افراد کو نکال کر عارضی کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔‘
معاون خصوصی شفیع جان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعلٰی نے رجسٹریشن کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے جس کے بعد متاثرین کے لیے قائم مراکز کی تعداد میں اضافہ کردیا گیا ہے۔‘
متاثرین کی گاڑی کو حادثہ
تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے ایک خاندان کی گاڑی گہری کھائی میں گر گئی جس کی وجہ سے دو بچے جان سے چلے گئے جبکہ والدین سمیت 3 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر پشاور کے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ وزیراعلٰی سہیل آفریدی نے زخمیوں کی عیادت کے لیے ہسپتال کا دورہ کیا۔
وزیراعلٰی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے زخمیوں کو فوری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے تیراہ میں سڑکوں کو ہمہ وقت کھلا رکھنے کے لیے اضافی مشینری اور عملہ تعینات کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
متاثرین کی فریاد
تیراہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان عبداللہ آفریدی نے موجودہ صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے اردو نیوز کو بتایا کہ ’آئی ڈی پیز گھروں سے نکل کر دُہرے عذاب میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ متاثرین کا سامان جن گاڑیوں میں پڑا ہے وہ برف میں پھنس چکی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’باغ کے علاقے تک 6 سے 7 مقامات پر گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں جنہیں نکالنے کے لیے مشینری کی ضرورت ہے۔‘
عبداللہ آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ ’برف باری کی وجہ سے راستے آمدورفت کے لیے بند ہیں جہاں سے رجسٹریشن پوائنٹس تک پہنچنے کے لیے 50 منٹ لگتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’برف میں پیدل سفر کرنا مشکل ہے چنانچہ آئی ڈی پیز کو خُون جما دینے والی اِس سردی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔‘
آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن کا عمل معطل
ضلع خیبر کی انتظامیہ کے مطابق موسم کی خراب صورتِ حال کے باعث دو روز سے آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن کا عمل روک دیا گیا ہے، تاہم اب تک 7 ہزار خاندانوں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔
انتظامیہ مزید کا کہنا ہے کہ ’25 ہزار سے زائد افراد تیراہ سے نقل مکانی کر چکے ہیں لیکن اُن کی رجسٹریشن نادرا سے نہیں ہوئی۔‘
ضلعی انتظامیہ کے مطابق آئی ڈی پیز کے لیے طوطوئی کے مقام پر انٹری پوائنٹ بنایا گیا ہے جس کے بعد پائندہ چینہ میں کلیئرنس کے بعد انہیں خوراک اور ضروری اشیا فراہم کی جاتی ہیں۔
تیراہ کے آئی ڈی پیز کو منڈیکس باڑہ کے مقام پر کرائے کی مد میں 22 ہزار روپے ادا کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ تیراہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کی وجہ سے مقامی افراد علاقہ چھوڑ کر نقل مکانی کر رہے ہیں۔ آپریشن کے فیصلے کے بعد تیراہ کے متاثرین نے پانچ جنوری سے گھروں سے نکلنے کا عمل شروع کیا جو 31 جنوری تک جاری رہے گا۔
سرکاری حکام کے مطابق تیراہ میں دہشت گرد عناصر کا صفایا کرنے کے بعد اپریل میں مقامی رہائشیوں کی بحالی کا عمل شروع کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’صوبائی حکومت اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لاکر تیراہ کے متاثرین کی تکالیف کو کم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے، برف باری میں پھنسے افراد کو نکال کر عارضی کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔‘
معاون خصوصی شفیع جان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعلٰی نے رجسٹریشن کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے جس کے بعد متاثرین کے لیے قائم مراکز کی تعداد میں اضافہ کردیا گیا ہے۔‘
متاثرین کی گاڑی کو حادثہ
تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے ایک خاندان کی گاڑی گہری کھائی میں گر گئی جس کی وجہ سے دو بچے جان سے چلے گئے جبکہ والدین سمیت 3 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر پشاور کے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ وزیراعلٰی سہیل آفریدی نے زخمیوں کی عیادت کے لیے ہسپتال کا دورہ کیا۔
وزیراعلٰی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے زخمیوں کو فوری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے تیراہ میں سڑکوں کو ہمہ وقت کھلا رکھنے کے لیے اضافی مشینری اور عملہ تعینات کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
متاثرین کی فریاد
تیراہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان عبداللہ آفریدی نے موجودہ صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے اردو نیوز کو بتایا کہ ’آئی ڈی پیز گھروں سے نکل کر دُہرے عذاب میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ متاثرین کا سامان جن گاڑیوں میں پڑا ہے وہ برف میں پھنس چکی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’باغ کے علاقے تک 6 سے 7 مقامات پر گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں جنہیں نکالنے کے لیے مشینری کی ضرورت ہے۔‘
عبداللہ آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ ’برف باری کی وجہ سے راستے آمدورفت کے لیے بند ہیں جہاں سے رجسٹریشن پوائنٹس تک پہنچنے کے لیے 50 منٹ لگتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’برف میں پیدل سفر کرنا مشکل ہے چنانچہ آئی ڈی پیز کو خُون جما دینے والی اِس سردی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔‘
آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن کا عمل معطل
ضلع خیبر کی انتظامیہ کے مطابق موسم کی خراب صورتِ حال کے باعث دو روز سے آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن کا عمل روک دیا گیا ہے، تاہم اب تک 7 ہزار خاندانوں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔
انتظامیہ مزید کا کہنا ہے کہ ’25 ہزار سے زائد افراد تیراہ سے نقل مکانی کر چکے ہیں لیکن اُن کی رجسٹریشن نادرا سے نہیں ہوئی۔‘
ضلعی انتظامیہ کے مطابق آئی ڈی پیز کے لیے طوطوئی کے مقام پر انٹری پوائنٹ بنایا گیا ہے جس کے بعد پائندہ چینہ میں کلیئرنس کے بعد انہیں خوراک اور ضروری اشیا فراہم کی جاتی ہیں۔
تیراہ کے آئی ڈی پیز کو منڈیکس باڑہ کے مقام پر کرائے کی مد میں 22 ہزار روپے ادا کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ تیراہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کی وجہ سے مقامی افراد علاقہ چھوڑ کر نقل مکانی کر رہے ہیں۔ آپریشن کے فیصلے کے بعد تیراہ کے متاثرین نے پانچ جنوری سے گھروں سے نکلنے کا عمل شروع کیا جو 31 جنوری تک جاری رہے گا۔
سرکاری حکام کے مطابق تیراہ میں دہشت گرد عناصر کا صفایا کرنے کے بعد اپریل میں مقامی رہائشیوں کی بحالی کا عمل شروع کیا جائے گا۔