کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کے باہر جمع ہجوم میں ہر چہرہ ایک الگ کہانی سمیٹے ہوئے ہے، مگر آنکھوں میں ایک ہی سوال ہے کہ کیا ہمارا پیارا زندہ ہے؟
اسی ہجوم میں محمد اشرف بھی کھڑے ہیں، جن کے بھائی محمد عارف سنیچر کی رات لگنے والی آگ کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ محمد اشرف جب بھی اپنے بھائی کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ان کی آواز بھرا جاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’20 دن پہلے ہی ان کے بھائی کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی تھی۔ ڈیڑھ سال کی ایک بیٹی بھی ہے۔ عارف کی بیوی اور بچی کی حالت بہت خراب ہے۔‘
ان کے مطابق عارف کی اہلیہ صدمے کی کیفیت میں ہیں، کبھی خاموشی سے آنسو بہاتی ہیں اور کبھی اپنے شوہر کو آواز دیتی ہیں، جیسے وہ ابھی دروازہ کھول کر اندر آ جائیں گے۔
محمد اشرف کہتے ہیں کہ ’وہ اور ان کے اہل خانہ پچھلے کئی دنوں سے ہسپتالوں اور جائے حادثہ کے درمیان بھٹک رہے ہیں۔ کوئی ہمیں واضح جواب نہیں دیتا۔ کبھی کہا جاتا ہے ملبہ ہٹ رہا ہے، کبھی کہا جاتا ہے انتظار کریں۔ میرا دل کہتا ہے کوئی معجزہ ہوگا اور میرا بھائی زندہ مل جائے گا۔‘
گل پلازہ آتشزدگی میں اب تک 30 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 40 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ملبے سے ملنے والی کئی لاشیں اس قدر جھلس چکی ہیں کہ ان کی شناخت ممکن نہیں۔
محمد عارف کے ماموں عبدالسلام بھی مسلسل گل پلازہ کے باہر موجود ہیں۔ وہ کبھی ڈپٹی کمشنر آفس کے باہر معلومات لینے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں، تو کبھی خاموشی سے ملبے کو تکتے رہتے ہیں۔ ان کی آنکھیں ملبے پر جمی ہوئی ہیں۔ وہ کہتے ہیں، شاید کہیں سے کوئی آواز آ جائے۔
عبدالسلام کے مطابق سنیچر کی رات اچانک لگنے والی آگ نے صرف ایک عمارت کو نہیں جلایا بلکہ درجنوں خاندانوں کی زندگیاں بدل دیں۔ جو گھر کل تک ہنستے بستے تھے، آج وہاں صرف سناٹا ہے۔ چند لمحوں میں خوشیاں ماتم میں بدل گئیں۔
اسی طرح گل پلازہ کے باہر کھڑے قیصر علی کی آنکھوں میں نیند نہیں۔ ان کے چہرے پر تھکن اور آواز میں بے بسی صاف جھلکتی ہے۔
کراچی کے سائیٹ ایریا کے رہائشی قیصر علی چار دن سے اپنی اہلیہ، بیٹی اور بہن سمیت چار افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم گھر نہیں جا سکتے، گھر میں سوگ کی کیفیت ہے۔ کبھی کوئی کسی کو یاد کر کے بے ہوش ہو جاتا ہے، کبھی کوئی پوچھتا ہے کچھ پتہ چلا؟ میرے پاس کسی سوال کا جواب نہیں۔‘
قیصر علی انتظامیہ سے نالاں نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ریسکیو آپریشن سست روی کا شکار ہے اور متاثرہ خاندانوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کریں۔ بس یہاں کھڑے ہیں کہ شاید کوئی خبر مل جائے۔‘
وہ رات جس نے سب کچھ بدل دیا
سنیچر کی رات گل پلازہ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ ابتدا میں کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ آگ چند گھنٹوں میں اتنی بڑی تباہی میں بدل جائے گی۔ عمارت کے اندر موجود دکانوں، گوداموں اور دفاتر میں کام کرنے والے افراد پھنس گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ تیزی سے پھیلی اور دھواں اتنا شدید تھا کہ لوگوں کو باہر نکلنے کا راستہ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ کئی افراد نے چھتوں پر پناہ لینے کی کوشش کی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ حالات مزید خراب ہوتے چلے گئے۔
ریسکیو اداروں کے پہنچنے تک عمارت کا بڑا حصہ آگ اور دھویں کی لپیٹ میں آ چکا تھا۔ بعد ازاں 33 گھنٹوں بعد آگ بجھائی گئی، مگر اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوا جو عمارت میں موجود افراد کی تلاش کا تھا۔
ریسکیو آپریشن
ریسکیو اہلکار پچھلے کئی دنوں سے گل پلازہ کے ملبے کو ہٹانے میں مصروف ہیں۔ بھاری مشینری، کٹرز اور دستی آلات کے ذریعے آہستہ آہستہ ملبہ صاف کیا جا رہا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق بدھ کے روز ملبے سے مزید دو لاشوں کے کچھ حصے ملے ہیں، جنہیں فوری طور پر سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس سانحے میں اب تک 30 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 40 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ملبے سے ملنے والی کئی لاشیں اس قدر جھلس چکی ہیں کہ ان کی شناخت ممکن نہیں رہی، جس کے باعث ڈی این اے ٹیسٹ کروائے جا رہے ہیں تاکہ لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کی جا سکیں۔
شناخت کا کٹھن مرحلہ
سول ہسپتال میں قائم عارضی ڈی این اے کیمپ میں لواحقین کے نمونے لیے جا رہے ہیں۔ یہ مرحلہ بھی خاندانوں کے لیے کم اذیت ناک نہیں۔ ایک طرف اپنوں کی تلاش، دوسری طرف اس خدشے کا سامنا کہ شاید شناخت کے بعد کوئی ایسی خبر ملے جس کے لیے وہ خود کو تیار نہیں کر پا رہے۔